لکھیم پور کھیری میں صحافی کی موت کی تصدیق، پرینکا کی ہمت سے وہ ڈر گئے، راہل گاندھی

راہل نے گاندھی کہا ’’پرینکا، میں جانتاہوں تم پیچھے نہیں ہٹوگی۔ تمہاری ہمت سے وہ ڈر گئے ہیں۔ انصاف کے لئے اس عدم تشدد کی لڑائی میں ہم ملک کے ان داتا (کسان) کو جیتا کر رہیں گے۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری میں کسانوں کی موت کے بعد اٹھا وبال تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک جانب جہاں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو مرنے والے کسانوں کے اہل خانہ سے ملنے کے لئے جانے نہیں دیا اور ان کو حراست میں لے لیا، وہیں دوسری طرف اب خبر آئی ہے کہ رام کشیپ نامی مقامی صحافی کے انتقال کی تصدیق ہوگئی ہے۔ خبروں کے مطابق رام کشیپ کے گھر والوں نے اس کی لاش کو پہچان لیا ہے۔ رام کشیپ کل تشدد کے بعد سے لاپتہ تھا۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنی بہن اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی حراست کے بعد ان کی حمایت میں ٹوئٹ کیا ہے، ’’پرینکا، میں جانتاہوں تم پیچھے نہیں ہٹوگی۔ تمہاری ہمت سے وہ ڈر گئے ہیں۔ انصاف کے لئے اس عدم تشدد کی لڑائی میں ہم ملک کے ان داتا (کسان) کو جیتا کر رہیں گے۔‘‘


بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے بھی اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ لکھیم پور تشدد معاملہ میں سخت قدم اٹھائیں۔ واضح رہے کہ کل کے واقعہ کے بعد لکھیم پور کھیری میں تناؤ ہے اور بڑی تعداد میں پولیس فورس کا بندو بست کیا گیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے رات کو ہی لکھیم پور کھیری جانے کی کوشش کر کے اتر پردیش کے تمام سیاسی رہنماؤں کو اس واقعہ پر کھل کر آنے کے لئے مجبور کر دیا ہے۔ اب بی ایس پی کی سربراہ مایاواتی اور سماجوادی کے رہنما اکھیلیش یادو بھی لکھیم پور جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واضح رہے اتر پردیش میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور اس معاملہ نے ایک مرتبہ پھر اتر پردیش کی حکومت کے کام کاج پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔


صحافی رام کشیپ کی موت کے بعد کل کے تشدد میں مرنے والوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ نیوز 18 کے پورٹل پر شائع خبر کے مطابق لکھیم پور کھیری میں کل اس وقت تشدد پھیل گیا جب ایک ایس یو وی کار مبینہ طور پر زرعی قوانین کی مخالفت کر رہے چار کسانوں کے اوپر چڑھ گئی۔ واضح رہے یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مرکزی وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ کی ایک تقریب میں شرکت کر کے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ کسانوں پر ایس یو وی کار کے چڑھنے کے مبینہ واقعہ کے بعد لوگوں نے وزیر مملکت کے قافلہ کی ایک گاڑی کو نذر آتش کر دیا۔ مرنے والوں میں چار کسان تھے جبکہ باقی چار لوگ وہ ہیں جو ان گاڑیوں میں سوار تھے۔

وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی نے اس سارے معاملہ کو ان کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کے وقت ان کا بیٹا وہاں موجود نہیں تھا۔ واضح رہے کسانوں کا یہ الزام ہے کہ اجے مشرا کا بیٹا ہی ایس یو وی چلا رہا تھا۔ ٹینی نے کہا ہے کہ ان کی اپنی گاڑی پر پتھراؤ ہوا جس کی وجہ ان کی گاڑی پلٹ گئی اور دو کسان اس کے نیچے آ گئے۔ واضح رہے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ اتر پردیش حکومت نے اس سارے معاملہ کی جانچ کرانے کے لئے کہا ہے اور اس معاملہ میں شامل سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔