اترپردیش پولیس نے پرینکا گاندھی کے ساتھ دیپندر ہڈا کو بھی حراست میں لیا

پولیس نے لکھیم پور کھیری میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر لکھیم پور کھیری آنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تصویر ٹوئٹر @INCUttarPradesh
تصویر ٹوئٹر @INCUttarPradesh
user

یو این آئی

سیتا پور/ لکھیم پور: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو سیتاپور میں رات بھر ہونے والے ڈرامے کے بعد پولیس نے بالآخر حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پرینکا گاندھی کو لکھنؤ سے لکھیم پور کھیری جانے والے کئی مقامات پر روکنے کی کوشش کی۔ پولیس نے پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ اترپردیش کانگریس کے صدر اجے کمار للو اور ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن دیپندرسنگھ ہڈا کو بھی حراست میں لے لیا۔ انہیں پولیس لائنز، سیتا پور میں واقع گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔

پرینکا گاندھی نے میڈیا کو بتایا کہ’’میں متاثرین کے اہل خانہ سے ملنے جا رہی ہوں۔ میں مرنے والوں کے لواحقین کو تسلی دینے جا رہی ہوں۔ میں متاثرین کا درد بانٹنے جا رہی ہوں۔ جو ہوا وہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کسانوں کو کچلنے کی سیاست کر رہی ہے۔ انہیں ختم کرنے کے لیے سیاست کی جا رہی ہے‘‘۔


اسی طرح دلت لیڈر چندر شیکھر آزاد راون کو بھی سیتا پور میں حراست میں لیا گیا۔ جبکہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے جنرل سکریٹری ستیش چندر مشرا کو لکھنؤ میں ان کی رہائش گاہ پر حراست میں رکھا گیا۔ بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت کو اکیلے لکھیم پور میں تکونیا جانے کی اجازت دی گئی ہے اور وہ احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ میٹنگ کر رہے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے صدراکھلیش یادو کی رہائش گاہ پر پولیس فورس تعینات کی گئی ہے جو لکھیم پور جا نے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ لکھیم پور جانے والے تمام اپوزیشن لیڈروں کی رہائش گاہوں پر پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر لکھیم پور کھیری آنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔