تلنگانہ: حضور آباد سیٹ پر ضمنی انتخاب رد کرنے کا مطالبہ لے کر کانگریس پہنچی الیکشن کمیشن

کانگریس جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا، منکم ٹیگور، وامشی چند ریڈی اور ڈاکٹر شرون داسوجو پر مبنی نمائندہ وفد نے جمعہ کی دوپہر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر اپنے مطالبات سامنے رکھے۔

الیکشن کمیشن، تصویر یو این آئی
الیکشن کمیشن، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

تلنگانہ کی حضور آباد سیٹ پر ضمنی انتخاب کے دوران مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے لگاتار دوسرے دن کانگریس کا نمائندہ وفد الیکشن کمیشن پہنچا۔ کانگریس پارتی نے اس سیٹ پر الیکشن رد کر نئے سرے سے غیر جانبدارانہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا، منکم ٹیگور، وامشی چند ریڈی اور ڈاکٹر شرون داسوجو کے کانگریس نمائندہ وفد نے جمعہ کی دوپہر تقریباً ایک بجے الیکشن بھون پر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کر عرضداشت سپرد کیا۔

الیکشن کمیشن سے ملاقات کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا نے کہا کہ تلنگانہ کا حضور آباد ضمنی انتخاب ملک کا سب سے مہنگا انتخاب بن گیا ہے اگر ووٹ خرید کر جیتنا چاہتے ہیں، تو جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہاں جس طرح سے ووٹوں کی خرید و فروخت ہوئی ہے، وہ افسوسناک ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی اعتراف کیا ہے کہ 3 کروڑ روپے نقد اور شراب وہاں سے برآمد ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نمائندہ وفد انتخابی کمیشن سے جمعرات کو بھی ملا اور جمعہ کو بھی۔ الیکشن کمیشن اس انتخاب کو خارج کرے۔ ورنہ ملک کے لوگوں کا الیکشن سے اعتماد اٹھ جائے گا۔


الیکشن کمشنر سے ملاقات کے بعد کانگریس ترجمان پروفیسر شرون نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے حضور آباد سیٹ ضمنی انتخاب کو رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست میں بی جے پی اور تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) دونوں پارٹیاں ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر کے انتخاب کو کاروبار بنا چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مثالی ضابطہ اخلاق کو نظر انداز کر انتخابی حلقہ میں شراب کی تقسیم ہو رہی ہے۔ لوگوں کو پیسے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر انتخابی عمل اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ غیر قانونی دولت، غیر قانونی شراب تقسیم کے کام میں مقامی پولیس بھی بی جے پی اور ٹی آر ایس کی مدد کر رہی ہے۔ ایسے میں ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی انتخابی کمشنر اور پولیس افسران کو ضمنی انتخاب کے لیے بدلا جائے۔ انتخاب جمہوری طریقے سے کیے جائیں۔

غور طلب ہے کہ تلنگانہ کے حضور آباد اسمبلی سیٹ پر 30 اکتوبر کو اسمبلی کے ضمنی انتخاب ہونے ہیں۔ اس سے قبل اس سیٹ پر تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ کو انتخابی کمیشن نے جلسہ عام کرنے سے روک دیا ہے۔ کمیشن نے صرف حضور آباد اسمبلی سیٹ ہی نہیں، اس کے مدنظر پڑوسی ہنامکونڈا اور کریم نگر ضلعوں میں بھی کسی طریقے کے سیاسی پروگرام پر روک لگا دی ہے۔ کمیشن نے تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی ہے کہ حضور آباد ضمنی انتخاب تک حکومت اپنے مشہور ’دلت بندھو یوجنا‘ پر کوئی کام نہ کرے۔


قابل ذکر ہے کہ اس سیٹ پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان سخت ٹکر ہے۔ بی جے پی ریاست کے 2023 میں ہونے والے اسمبلی انتخاب سے قبل اپنی طاقت آزمانا چاہتی ہے، جس کے لیے بی جے پی کا یہ سیٹ جیتنا بے حد اہم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔