ٹیکری حادثہ: اپنے اپنے کنبہ کی ریڑھ تھیں حادثے میں ہلاک اور زخمی خواتین

پانچوں خواتین مدت سے ہر کسان تحریک میں شدت کے ساتھ شرکت کرتی تھیں، یہ تمام خواتین بھارتیہ کسان ایکتا یونین (اوگرہا) کی سرگرم کارکن تھیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

امریک

ٹیکری بارڈر پر کسان تحریک سے واپس لوٹ رہیں 5 خواتین کو ڈمپر کے ذریعہ روندے جانے کے واقعہ سے پنجاب میں گہرے غم کا ماحول ہے۔ اس واقعہ میں تین کسان خواتین کی موت ہو گئی اور دو سنگین طور سے زخمی ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنّی نے متاثرہ کنبوں کو 55 لاکھ روپے کی معاشی مدد اور زخمیوں کو مفت علاج کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ یہ خواتین مانسا کی تحصیل بھیکھی واقع گاؤں کھیوا دیال پورہ کی رہنے والی تھیں۔

قابل ذکر ہے کہ مہلوک اور زخمی خواتین 65-60 سال کی عمر کی تھیں ان پر اپنے اپنے کنبے کی بڑی ذمہ داریاں تھیں۔ پانچوں خواتین مدت سے ہر کسان تحریک میں شدت کے ساتھ شرکت کرتی تھیں۔ یہ تمام خواتین بھارتیہ کسان ایکتا یونین (اوگرہا) کی سرگرم کارکن تھیں۔ مانسا ویسے بھی کسان تحریک کا قلعہ رہا ہے۔ مہلوک امرجیت کور اور سکھوندر کور پر اپنے کنبہ کا سارا دارومدار تھا۔ ان دونوں کے سر سے شوہر کا سایہ پہلے ہی اٹھ گیا تھا۔ مہلوک اور زخمی خواتین اپنی زمین بچانے کے لیے کسان تحریک میں شامل ہوتی تھیں۔


امرجیت کور کے کنبہ میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ ان کے شوہر کی 18 سال قبل سانپ کے ڈسنے سے موت ہو گئی تھی۔ ان کا بیٹا جسوندر سنگھ ہندوستانی فوج میں 13 میڈیم کور، جالندھر میں تعینات ہے۔ وہ ایک حادثہ کا شکار ہونے کے بعد اپنی آواز گنوا چکا ہے۔ بیٹی لکھوندر کور کی شادی 23 جنوری 2022 کو طے ہوئی ہے۔ امرجیت کور کے کنبہ پر 10 لاکھ روپے بینک اور تقریباً 20 لاکھ روپے کا پرائیویٹ قرض ہے۔ کنبہ کے پاس 5 ایکڑ زمین ہے۔

مہلوکہ سکھوندر کور سوا ایکڑ زمین پر کھیتی کر کے گھر کا گزر بسر کرتی تھیں۔ ان کے کنبہ میں ایک بیٹا ہے۔ 2016 میں لقوے کی وجہ سے ان کے شوہر چل بسے تھے۔ اس کنبہ پر 5 لاکھ روپے بینک اور 10 لاکھ روپے پرائیویٹ قرض ہے۔ تیسری مہلوکہ 62 سالہ گرمیل کور کے کنبہ کے پاس 5 ایکڑ زمین ہے۔ 5 لاکھ روپے کی بینک لمٹ ہے اور 20 لاکھ روپے کا پرائیویٹ قرض ہے۔


اس کے علاوہ زخمیوں میں سے 60 سال کی ہرمیت کور کے کنبہ میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ 8 ایکڑ زمین ہے۔ 6 لاکھ روپے سرکاری اور 10 لاکھ روپے پرائیویٹ قرض ہے سنگین طور سے زخمی 65 سالہ گرمیل کور کے کنبہ میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے۔ اس کنبہ کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین ہے۔ 5 لاکھ روپے کا بینک اور تقریباً 18 لاکھ روپے کا پرائیویٹ قرض ہے۔ بھارتیہ کسان یونین ایکتا (اوگرہا) نے ٹیکری بارڈر پر ڈمپر سے کچلی گئی مانسا ضلع کی خواتین کے حادثے پر سازش کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

یونین کے ضلع صدر رام سنگھ بھینیں والا، بلاک چیئرمین سادھو سنگھ علی شیر، سینئر لیڈر بھولا سنگھ ماکھا نے کہا کہ یہ حادثہ ایک سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ سینکڑوں کسان اس جدوجہد کے دوران اپنی جان گنوا چکے ہیں، لیکن ان کی یہ جدوجہد اسی طرح جاری رہے گی۔ جب تک مرکزی حکومت تینوں زرعی قوانین واپس نہیں لے لیتی تب تک یہ تحریک ختم نہیں ہوگی۔ شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) کی سربراہ بی بی جاگیر کور نے بھی دہلی کے ٹیکری بارڈر حادثہ پر غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے اَن داتا کسان اپنے جائز مطالبات کو لے کر طویل وقت سے دہلی کے بارڈر پر بیٹھے ہیں۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت اپنے ضدی رویہ کے سبب کسانی مسئلوں کو حل نہیں کر رہی۔ بی بی جاگیر کور نے کہا کہ اس کسان تحریک میں اب تک سینکڑوں کسان اپنی زندگی گنوا چکے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔