منریگا کی بحالی کے مطالبے پر تلنگانہ کانگریس کا 45 روزہ ریاست گیر احتجاج
تلنگانہ کانگریس نے منریگا کی بحالی کے مطالبے پر 45 روزہ ریاست گیر تحریک کا اعلان کیا ہے، جس میں گرام سبھائیں، ضلع سطح کے جلسے اور مرکزی حکومت کے نئے قانون کے خلاف عوامی مہم شامل ہوگی

حیدرآباد: تلنگانہ کی برسراقتدار کانگریس پارٹی نے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم (منریگا) کی بحالی کے مطالبے کو لے کر ریاست بھر میں 45 روزہ احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات کو پارٹی ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں منعقدہ تلنگانہ پردیش کانگریس کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں کیا گیا۔
میٹنگ میں حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے ’وکست بھارت گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن (دیہی) قانون‘ کی سخت مخالفت کا عزم ظاہر کیا گیا، جسے منریگا کی جگہ نافذ کیا گیا ہے۔ کانگریس کا مؤقف ہے کہ نیا قانون دیہی غریبوں اور کھیت مزدوروں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس سے روزگار کے تحفظ کو شدید نقصان پہنچے گا۔
تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر مہیش کمار گوڑ کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی انچارج میناکشی نٹراجن اور پارٹی کے دیگر سینئر قائدین شریک ہوئے۔ میٹنگ میں احتجاجی تحریک کی تفصیلی حکمت عملی طے کی گئی۔
کانگریس قائدین نے وی بی جی رام جی قانون کو دیہی غریبوں کے لیے ’’موت کے برابر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک کے دوران اس قانون کی ان شقوں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا جو مزدوروں اور کسانوں کے خلاف ہیں۔ پارٹی 20 جنوری سے 30 جنوری کے درمیان ریاست کی بارہ ہزار سے زائد گرام پنچایتوں میں گرام سبھائیں منعقد کرے گی، جہاں منریگا کی بحالی کے حق میں قراردادیں منظور کر کے صدرِ جمہوریہ کو ارسال کی جائیں گی۔
اس کے بعد 3 فروری سے تمام اضلاع میں عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ ملگو میں ایک بڑے جلسے کا بھی منصوبہ ہے، جس میں کانگریس قیادت سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو مدعو کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے مرکز کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ منریگا نے دیہی غریبوں کے وقار میں اضافہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس اسکیم میں تبدیلی کا مقصد بڑے صنعتکاروں کو سستا محنتی طبقہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تلنگانہ اسمبلی پہلے ہی منریگا میں تبدیلیوں کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر چکی ہے اور ریاست کے اراکینِ پارلیمنٹ کو بجٹ اجلاس میں اس مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔