بہار اسمبلی انتخاب: تیجسوی یادو کی ہوا میں اکھڑنے لگے ہیں نتیش-مودی کے پیر!

اس بار انتخاب کا ایجنڈا مہاگٹھ بندھن لیڈر تیجسوی یادو نے 'روزگار' کو بنایا ہے اور برسراقتدار جے ڈی یو-بی جے پی کو جواب دیتے ہوئے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ تیجسوی لوگوں کے سامنے ایک نئی امید بن کر ابھرے ہیں۔

تیجسوی یادو، تصویر گیٹی ایمج
تیجسوی یادو، تصویر گیٹی ایمج
user

قومی آواز تجزیہ

دہلی سے بہار کی طرف جائیں تو بکسر راستے میں پڑتا ہے۔ یہاں کے نوجوان انوراگ پانڈے 'ببلو' تاجر ہیں۔ ان کی بات سمجھنے کی ضرورت ہے: "زمینی سطح پر نتیش کمار کا گراف گر گیا ہے اور غریب لوگ آج بھی بی جے پی سے نہیں جڑ پائے ہیں۔ تیجسوی نئی امید بن کر ابھرے ہیں۔ وہ عوامی جلسوں میں کام اور روزگار کی بات کر رہے ہیں۔ لالو یادو جس طرح طویل مدت سے جیل میں ہیں، اس وجہ سے بھی تیجسوی کو ہمدردانہ حمایت مل رہی ہے۔"

دوسرے سرے پر نیپال سرحد کی طرف چلیں۔ فاربس گنج کے بے حد معزز شخص 75 سالہ ریوتی رمن سنگھ عرف ٹن ٹن بابو کہتے ہیں "نصف شمالی بہار میں آج بھی گاؤں میں پانی بھرا ہوا ہے۔ سیلاب کے وقت سرکاری انتظام بہت خراب تھا۔ اس کا خمیازہ تو حکومت کو بھگتنا ہی پڑے گا۔" تیسری طرف بیتیا میں ٹیچر ڈاکٹر ریپوسودن پانڈے 'دبیل' بھی کہتے ہیں کہ اس بار لڑائی یکطرفہ نہیں ہے، جیسا شروع میں میڈیا نے پروجیکٹ کیا تھا۔

یہ باتیں بہار کی نبض پہچاننے کے لیے کافی ہیں۔ اس کی وجہ بھی ہے۔ اس بار انتخاب کا ایجنڈا اپوزیشن یعنی مہاگٹھ بندھن کے لیڈر تیجسوی یادو نے طے کیا ہوا ہے اور وہ بے روزگاری۔ برسراقتدار جنتا دل یو-بی جے پی کو جواب دینے میں پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ نتیش حکومت کے کام سے خفا لوگ مہاگٹھ بندھن کی طرف نظر لگائے ہوئے ہیں اور یہ 'منفی ووٹنگ' کی شکل میں سامنے آ سکتی ہے۔ لیکن یہی تو 1977 اور 1989 پارلیمانی انتخابات میں بھی ہوا تھا۔ بی جے پی کے ساتھ رہنے سے نتیش غفلت میں پڑ گئے ہیں کہ انھیں سبھی طبقات کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن یہ پہلے سے صاف ہے کہ وہ مبینہ اعلیٰ ذاتوں کے لاڈلے کبھی نہیں رہے۔ بی جے پی کی پالیسی دراصل ریزرویشن کی دھار کم کرنے اور کمزور طبقات کو کنارے کرنے کی رہی ہے، اور نتیش اس کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اس لیے مبینہ طور پر اعلیٰ ذات کے لوگ انھیں کم بڑا دشمن مانتی ہیں اور اسی وجہ سے یہ لوگ ان کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔ اس بار بی جے پی نے ان کی زمین کھسکا دی ہے اس لیے وہ دلدل میں دھنستے نظر آ رہے ہیں۔

نتیش کو اپنے نام نہاد سُشاسن، خاص طور پر شراب بندی پر گمان رہا ہے۔ گزشتہ بار مختلف طبقات کی خواتین نے انھیں اسی بنیاد پر حمایت بھی دی تھی۔ لیکن اس سے خزانے کا جو خسارہ ہوا، اس کو نظر انداز بھی کر دیں تو اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آپ آج جہاں، جب، جس برانڈ کی شراب چاہیں، آرام سے خرید سکتے ہیں۔ بلکہ یہ اب فون کال پر ہوم ڈیلیوری تک ہو رہی ہے۔ عام لوگ اس کو بھی نظر انداز کر دیتے۔ لیکن شراب بندی قانون کے تحت پکڑے گئے لاکھوں لوگوں میں سے بیشتر دلت اور کمزور طبقات کے لوگ ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں اس طرح کے جھوٹے الزامات میں مقدموں میں پھنسا دیا گیا اور وہ جیلوں کا سفر تک کر چکے ہیں۔ پولس کے لیے یہ قانون اُگاہی کا ہتھیار بن گیا اور اس کی دھار سے نتیش زخمی ہو رہے ہیں۔ اسی لیے پٹنہ ویاپار منڈل کے افسر آشیش شنکر صاف صاف کہتے ہیں کہ "عوام میں نتیش کے تئیں زبردست غصہ ہے۔ شراب بندی میں کون سا امیر آدمی پکڑا گیا ہے؟ سب غریب ہی تو جیل میں ہیں۔ باقی عوام افسروں کی رشوت خوری سے پریشان ہیں۔ آج ایک زمین کے داخل خارج کے دس دس ہزار مانگے جاتے ہیں۔"

اسے بھی نتیش کمار برداشت کر لیتے۔ لیکن روزگار کے سوال پر نہ صرف وہ بلکہ بی جے پی، خاص طور سے پی ایم نریندر مودی اور ان کے لوگ بری طرح الجھ گئے ہیں۔ تیجسوی یادو نے 10 لاکھ لوگوں کو سرکاری ملازمت دینے کی بات کی، تو نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی نے اسے مذاق میں اڑا دیا۔ لیکن بی جے پی نے خود ہی 19 لاکھ ملازمتوں کی بات کی۔ یہ بات دوسری ہے کہ اس سے لوگوں کو ریل، سیل، ائیر پورٹ وغیرہ سب کی بات یاد آنے لگی کہ کیسے لوگوں کے روزگار چھینے جا رہے ہیں۔ انتخابی تشہیر کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے کہا بھی کہ "یہ وعدہ ویسا ہی ہے جیسا بی جے پی نے 15 لاکھ روپے سب کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کو کہا تھا۔"

ویسے بھی بی جے پی نے مودی کی ہنستے ہوئے تصویر کے ساتھ ایسے پوسٹر بینر لگا کر اپنی جگ ہنسائی ہی کرا لی جس میں مہاجر مزدوروں کو محفوظ اور سہولت کے ساتھ گھر واپس پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن لگائے جانے کے بعد مہاجر مزدوروں کو جو کچھ برداشت کرنا پڑا، وہ پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ اور اپوزیشن کو اس بارے میں ووٹروں کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ انھیں گھر میں روزگار نہیں ملا اور ان میں سے بیشتر کام دھندے کی تلاش میں واپس میٹرو پولیٹن شہروں کی طرف جا چکے ہیں۔ لیکن یہاں رہ رہے ان کے گھر والوں کے لوگ نتیش-بی جے پی کو ووٹ دیں گے، یہ غلط فہمی تو ان لیڈروں کو بھی نہیں ہے۔ کم از کم پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کے بعد تو یہ بات صاف ہو ہی گئی ہے۔ اسی لیے پروفیسر عین الحسن تفصیل میں گئے بغیر ہی مرزا غالب کے شعر کو پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پہ نہیں آتی

next