معاشی شفافیت میں ٹیکنالوجی بہت مدد کر سکتی ہے: مودی

اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا کہ جس طرح بیت الخلاء کی تعمیر نے غریبوں کے وقار کو بڑھایا، اسی طرح معاشی شفافیت غریبوں کے حقوق کو یقینی بناتی ہے اور ان کی زندگی آسان بناتی ہے۔

من کی بات، تصویر یو این آئی
من کی بات، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ غریبوں کو ان کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم بھیجنے کے نظام نے بدعنوانی کو کم کیا ہے اور ڈیجیٹل ادائیگی جیسی ٹیکنالوجی سے معاشی طور پر شفافیت لانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا کہ جس طرح بیت الخلاء کی تعمیر نے غریبوں کے وقار کو بڑھایا، اسی طرح معاشی شفافیت غریبوں کے حقوق کو یقینی بناتی ہے، ان کی زندگی آسان بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ جانتے ہیں کہ جن دھن اکاؤنٹس کے حوالے سے ملک میں شروع کی گئی مہم کی وجہ سے آج غریبوں کا پیسہ براہ راست ان کے کھاتوں میں جا رہا ہے جس کی وجہ سے بدعنوانی میں بہت بڑی کمی آئی ہے۔


اس تناظر میں وزیر اعظم نے کہا کہ "یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی معاشی شفافیت میں بہت مدد کر سکتی ہے۔" انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ آج دیہی علاقوں میں بھی عام لوگ فن ٹیک (مالیاتی ٹیکنالوجی) یو پی آئی کے ذریعے ڈیجیٹل لین دین کر رہے ہیں، اس کا رجحان بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اگست مہینے میں یو پی آئی کے ذریعے ایک ماہ میں 355 کروڑ روپے ٹرانزیکشن ہوئے تھے۔ آج یو پی آئی کے ذریعے اوسطاً 6 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ڈیجیٹل ادائیگی کی جا رہی ہے۔ اس شفافیت کی وجہ سے ملک کی معیشت میں شفافیت آرہی ہے۔ یہ باتیں کرتے ہوئے پی ایم مودی نے ’من کی بات‘ سننے والے رمیش پٹیل کا حوالہ دیا جنہوں نے وزیر اعظم کو لکھا کہ ہمیں باپو سے سیکھ کر آزادی کے اس ’’امرت مہوتسو‘‘ میں معاشی شفافیت کا عہد بھی کرنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔