کورونا کے سبب ملک میں ’قومی ایمرجنسی‘ جیسی حالت، سپریم کورٹ نے مرکز کو بھیجا نوٹس

سپریم کورٹ نے جمعرات کو از خود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا ہے۔ عدالت نے مرکز سے پوچھا ہے کہ ان کے پاس کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے کیا قومی منصوبہ ہے۔

 تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کورونا کی حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔ اب ہر دن تین لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اسپتالوں میں آکسیجن اور دواؤں کی قلت ہونے لگی ہے۔ ملک میں کورونا سے بگڑتے حالات پر اب سپریم کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو از خود نوٹس لیتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس بھیجا ہے۔ کورٹ نے مرکز سے پوچھا ہے کہ ان کے پاس کووڈ-19 سے نمٹنے کے لیے کیا نیشنل پلان ہے۔ کورٹ نے ہریش سالوے کو ایمیکس کیوری بھی مقرر کیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ’’ہم آفت سے نمٹنے کے لیے قومی منصوبہ چاہتے ہیں۔‘‘ عدالت نے کہا کہ ’’6 ہائی کورٹ ان ایشوز پر سماعت کر رہے ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ایشوز اپنے پاس رکھیں۔‘‘ کورٹ نے کہا کہ لاک ڈاؤن لگانے کا اختیار ریاستوں کو ہونا چاہیے۔


سپریم کورٹ نے چار اہم ایشوز پر مرکزی حکومت سے نیشنل پلان مانگا ہے۔ اس میں پہلا- آکسیجن کی سپلائی، دوسرا- دواؤں کی سپلائی، تیسرا-ویکسین دینے کا طریقہ اور عمل اور چوتھا- لاک ڈاؤن کرنے کا اختیار صرف ریاستی حکومت کو ہو، کورٹ کو نہیں۔ اب معاملے کی اگلی سماعت 23 اپریل یعنی کل ہوگی۔

ملک کی عدالت عظمیٰ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب جمعرات کو ویدانتا کمپنی کی اس عرضی پر سماعت ہو رہی تھی جس میں کمپنی نے اپنے پلانٹ کو آکسیجن پیدا کرنے کے لیے کھولے جانے کے لیے اجازت مانگی ہے۔ تمل ناڈو عرضی پر سماعت کل چاہتا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے کووڈ کی حالت پر کئی ایشوز کو لے کر از خود نوٹس لیا اور کہا کہ ملک میں حالات قومی ایمرجنسی جیسے بن گئے ہیں۔


واضح رہے کہ کل (بدھ) ہی دہلی ہائی کورٹ میں راجدھانی دہلی کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے مسئلہ پر سماعت ہوئی تھی جس میں عدالت نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی۔ ہائی کورٹ نے ملک بھر میں اسپتالوں میں آکسیجن سپلائی میں آ رہی دقتوں اور بڑھتی اموات کو لے کر کہا کہ ’’اس وبا کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت کو لوگوں کی جان جانے کی فکر نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔