سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کو خط لکھا، ویکسین پالیسی اور قیمتوں کے تعین میں امتیاز پر تشویش کا اظہار

سوال اٹھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے لکھا کہ ایک ہی طرح کی ویکسین جو اس کمپنی میں تیار ہو رہی ہے اس کے تین مختلف دام کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اس طرح کا منمانا امتیاز کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔

سونیا گاندھی، تصویر@INCIndia
سونیا گاندھی، تصویر@INCIndia
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے جمعرات کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ان سے نئی ویکسین پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک میں 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو ٹیکہ دیا جائے اور قیمتوں کے تعین میں جو امتیاز برتا جا رہا ہے اسے بھی دور کیا جائے۔

سونیا گاندھی نے خط میں لکھا، ’’کووڈ-19 کے تعلق سے حکومت کی نئی ٹیکہ کاری پالیسی کے سبب عوام میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ یہ حیران کن ہے کہ گزشتہ سال کے سخت اسباق اور شہریوں کو ہونے والے درد کے باوجود حکومت ایک خیالی اور امتیاز سے پُر پالیسی اختیار کر رہی ہے، جو موجودہ دشواریوں میں مزید اضافہ کرے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پالیسی کہتی ہے کہ حکومت ہند ملک کے 18 سے 45 سال تک کے شہریوں کو مفت ٹیکہ فراہم کرنے کے لئے ذمہ دار نہیں ہے۔ حکومت کا یہ اقدام ہمارے نوجوانوں سے پوری طرح کنارہ کشی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ پالیسی کے مطابق ویکسین تیار کرنے والی کمپنی مثلاً سیرم انسٹی ٹیوت آف انڈیا نے آج قیمتوں کا اعلان کچھ اس طرح کیا ہے، مرکزی حکومت کے لئے 150 روپے خوراک، ریاستی حکومت کے لئے 400 روپے خوراک اور نجی اسپتالوں کے لئے 600 روپے فی خوراک۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کو ٹیکہ کاری کے لئے مہنگے دام ادا کرنے ہوں گے۔ اس سے ریاستی حکومتوں کو بھی مالی نقصان پہنچے گا۔

سوال اٹھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے مزید لکھا، ’’ایک ہی طرح کی ویکسین جو اس کمپنی میں تیار ہو رہی ہے اس کے تین مختلف دام کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اس طرح کا منمانا امتیاز کسی بھی طرح قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان غیر متوقع حالات میں حکومت ہند لوگوں کی پریشانی سے اس طرح کی بے شرم منافع خوری کو کس طرح اجازت دے سکتی ہے؟ ایسے وقت میں جبکہ طبی وسائل کا بحران ہے، اسپتالوں میں بستر دستیاب نہیں ہیں، آکسیجن کی فراہم اور ضروری ادویات کی دستیابی تیزی سے ختم ہو رہی ہے، حکومت ایک ایسی پالیسی کو منظوری کیوں دے رہی ہے جو پوری طرح سے بحسی پر مبنی ہے۔ ریاستوں کو ویکسین کا 50 فیصد حصہ مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانا ہے، تو پھر ان کی تقسیم بھی تعاون پر مبنی وفاقیت کی روح کے عین مطابق شفافیت اور برابری کی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس پہلے ہی یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ اس پالیسی کو از سر نو تیار کیا جائے۔ یقینی طور پر ہر ذی شعور شخص یکساں قیمتوں پر ملنے والے فائدہ پر متفق ہوگا۔ سونیا گاندھی نے آخر میں لکھا، ’’میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ بغیر سوچے سمجھے نافذ کی گئی اس پالیسی میں مداخلت کریں اور اس فیصلہ کو واپس لیں۔ قوم کا ہدف ہونا چاہیے کہ 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو خواہ ان کی مالی حیثیت کیسی بھی ہو، مفت ویکسین فراہم کی جائے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔