پارلیمانی انکوائری پینل معاملہ میں جسٹس یشونت ورما کی درخواست پر سماعت، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا

سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی اس عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے جس میں لوک سبھا کی جانب سے قائم پارلیمانی انکوائری پینل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ/جسٹس یشونت ورما</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما کی اس عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں انہوں نے اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کے لیے قائم پارلیمانی انکوائری پینل کی قانونی اور آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ایس سی شرما پر مشتمل بنچ نے جسٹس ورما کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکلا مکل روہتگی اور سدھارتھ لوتھرا جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی نمائندگی کرنے والے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سنے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ ججوں کے خلاف مواخذے سے متعلق کارروائی ججوں کے (انکوائری) ایکٹ 1968 کے تحت سخت طریقۂ کار کی پابند ہے اور اس ایکٹ کے مطابق صرف لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ہی کسی جج کو ہٹانے کی تحریک قبول کرنے کے مجاز ہیں۔

جسٹس ورما کے وکلا کا کہنا تھا کہ پارلیمانی انکوائری پینل کی تشکیل میں اختیار اور طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اس لیے یہ پوری کارروائی غیر آئینی ہے۔ انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر کی جانب سے تحریک قبول کرنے اور اس کے بعد انکوائری کمیٹی قائم کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔


اس کے برعکس سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے پارلیمانی پینل کے قیام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر دونوں ایوانوں میں تحریک قبول ہو جائے تو پھر اسپیکر لوک سبھا اور چیئرمین راجیہ سبھا مشترکہ طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کے مجاز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ معاملے میں قانون کی مکمل تعمیل کی گئی ہے۔

عدالت نے بدھ کے روز زبانی طور پر یہ بھی کہا تھا کہ ججوں کے (انکوائری) ایکٹ میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے جو راجیہ سبھا میں تحریک مسترد ہونے کے بعد لوک سبھا کے اسپیکر کو انکوائری کمیٹی قائم کرنے سے روکتی ہو۔

واضح رہے کہ جسٹس یشونت ورما کو 14 مارچ کو نئی دہلی میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر جلی ہوئی کرنسی کے بنڈل ملنے کے بعد دہلی ہائی کورٹ سے واپس الٰہ آباد ہائی کورٹ بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے ایک داخلی انکوائری شروع کی تھی جس کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے 4 مئی کو اپنی رپورٹ میں جسٹس ورما کو بدعنوان طرزِ عمل کا مرتکب قرار دیا تھا۔

جسٹس ورما کے استعفیٰ دینے سے انکار کے بعد رپورٹ صدرِ جمہوریہ اور وزیر اعظم کو ارسال کی گئی، جس کے بعد مواخذے کی کارروائی کی راہ ہموار ہوئی۔ بعد ازاں 12 اگست کو لوک سبھا کے اسپیکر نے جسٹس ورما کو ہٹانے کی کثیر جماعتی تحریک قبول کرتے ہوئے تین رکنی پارلیمانی انکوائری کمیٹی قائم کی، جس کے خلاف اب سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ کر رکھ لیا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔