کیش اسکینڈل میں پھنسے جسٹس ورما کی عرضی پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو سپریم کورٹ کا نوٹس
سپریم کورٹ اس معاملے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کے جوابات حاصل ہونے کے بعد اگلی سماعت میں طے کرے گا کہ جسٹس یشونت ورما کے خلاف شروع کی گئی مواخذے کی کارروائی قانونی ہے یا نہیں

کیش اسکینڈل میں پھنسے جسٹس یشونت ورما لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ جسٹس ورما نے پارلیمنٹ میں اپنے کے خلاف شروع کی گئی مواخذے کی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے معاملے میں ججز انکوائری ایکٹ 1968 میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو نوٹس جاری کر کے ان سے جواب طلب کیا ہے۔
خیال رہے کہ نئی دہلی واقع سرکاری رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں جلے ہوئے نوٹ ملنے کے معاملے میں فی الحال الہ آباد ہائی کورٹ میں جج جسٹس یشونت ورما نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ میں انہوں نے لوک سبھا اسپیکر کی طرف سے 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے۔ جسٹس ورما نے اپنی عرضی میں اس کمیٹی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جسٹس ورما کی عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے جسٹس دیپانکر دتا نے زبانی ریمارکس دیے کہ کیا قانون بنانے والوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا؟
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مواخذے کی تحریک کو دونوں ایوانوں سے ایک ہی دن منظور کیا جانا ضروری ہوتا ہے جب کہ اس آئینی شرط پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ جسٹس ورما نے خاص طور پر 3 رکنی کمیٹی کی قانونی حیثیت پرسوال اٹھایا ہے جسے ججز انکوائری ایکٹ کے تحت صرف لوک سبھا نے تشکیل دیا تھا۔ ان کی دلیل ہے کہ یہ عمل قانون اورآئین دونوں کے خلاف ہے۔ قانون کے مطابق جب کسی جج کو ہٹانے کی تحریک دونوں ایوانوں میں پیش کی جاتی ہے تو انکوائری کمیٹی کی تشکیل بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعہ مشترکہ طور پر کیا جانا چاہئے، نہ کہ لوک سبھا کے اسپیکر کے ذریعہ یکطرفہ طریقے سے۔
جسٹس ورما کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تحریک پیش ہونے کی صورت میں انکوائری کمیٹی کی تشکیل بھی دونوں ایوانوں کے مشترکہ عمل سے ہونا چاہئے تھا۔ ایسی صورت میں لوک سبھا اسپیکرکی طرف سے اکیلئے کمیٹی کی تشکیل کرنا قانونی طور پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب سپریم کورٹ اس معاملے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کے جواب کے بعد اگلی سماعت میں طے کرے گی کہ جسٹس ورما کے خلاف شروع کی گئی مواخذے کی کارروائی قانون کے مطابق ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی برطرفی کی تحقیقات کے لیے لوک سبھا کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کو برخاست کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا کی سربراہی والی بنچ نے نوٹس جاری کرکے دونوں ایوانوں کے سکریٹریوں کو 7 جنوری تک اپنے جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔