یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف لکھنؤ اور دہلی میں طلبہ کا احتجاج، حکومت پر دباؤ میں اضافہ

یو جی سی کے مساواتی ضوابط 2026 کے خلاف لکھنؤ اور دہلی میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ ناقدین انہیں امتیازی قرار دے رہے ہیں، جبکہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے

<div class="paragraphs"><p>احتجاج کا منظر / ویڈیو گریب / اے آئی سے بہتر شدہ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نافذ کیے گئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے ضوابط نے ملک بھر میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے ضوابط 2026‘ کے نفاذ کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سمیت کئی تعلیمی اداروں میں طلبہ سڑکوں پر آ گئے، جبکہ قومی راجدھانی دہلی میں بھی یو جی سی کے صدر دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط یکطرفہ ہیں اور ان سے کیمپس میں مزید تقسیم اور بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔

لکھنؤ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طلبہ نے نئے ضوابط کو ’سیاہ قانون‘ قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ یہ قواعد عام زمرے کے طلبہ کے خلاف امتیازی نوعیت رکھتے ہیں اور جھوٹے الزامات کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ کو نشانہ بنائے جانے کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ احتجاج کے دوران کیمپس میں کشیدگی دیکھی گئی، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے امتحانی نظام میں خلل ڈالنے کے الزام میں کارروائی کی وارننگ بھی دی۔

دہلی میں بھی مختلف طلبہ گروپوں نے یو جی سی کے صدر دفتر کے باہر جمع ہو کر ضوابط کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر طلبہ سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں سامنے آ کر ان قواعد کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ اسی دوران اتر پردیش کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں اور آئندہ دنوں میں مزید مظاہروں کا اعلان کیا گیا۔


اس معاملے نے قانونی رخ بھی اختیار کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی دو عرضیاں داخل کی جا چکی ہیں، جن میں 13 جنوری کو نوٹیفائی کیے گئے ان ضوابط کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں کا موقف ہے کہ یو جی سی کے یہ قواعد آئینی اصولوں اور فطری انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہیں۔

یو جی سی کے مطابق ان ضوابط کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیاز سے نمٹنے کے لیے مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔ قواعد کے تحت مساوی مواقع مراکز، ایکویٹی کمیٹیاں اور چوبیس گھنٹے فعال شکایتی ہیلپ لائن قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ خاص طور پر درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ کو تحفظ مل سکے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ضوابط میں ملزم افراد کے لیے واضح حفاظتی انتظامات درج نہیں کیے گئے، جس سے قصوروار سمجھے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قواعد پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اداروں کی منظوری منسوخ ہونے یا فنڈنگ روکنے جیسے سخت اقدامات تعلیمی خودمختاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔

سیاسی سطح پر بھی یہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بعض رہنماؤں نے انصاف، توازن اور نمائندگی پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ کسان رہنما راکیش ٹکیت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسے قوانین سماج میں ذات پات کی بنیاد پر کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ایک سینئر بیوروکریٹ اور حکمراں جماعت کی نوجوان تنظیم کے ایک رہنما کے استعفوں نے بھی معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔