یو جی سی کے نئے قانون سے مشکل میں بی جے پی، پارٹی لیڈران کے استعفوں کا سلسلہ شروع
کئی بی جے پی لیڈران نے یو جی سی کے نئے قانون سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ دے چکے ہیں۔ استعفیٰ دینے والوں کا کہنا ہے کہ نیا قانون برہمنوں اور اعلیٰ ذات کے بچوں کے لیے انتہائی نقصاندہ ہے۔

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے قانون نے ملک بھر میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیاں اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں اور سڑکوں پر احتجاج بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اتر پردیش میں اس قانون کے خلاف ناراضگی کچھ زیادہ دکھائی دے رہی ہے، جہاں پہلے تو بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری نے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا، اور اب کئی بی جے پی لیڈران کے استعفوں کی خبر بھی سامنے آ رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی کے کئی عہدیداروں اور بڑے لیڈران نے یو جی سی کے نئے قانون پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ شراوستی میں سابق ضلع صدر سمیت کئی لیڈران نے 26 جنوری کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ انھوں نے نہ صرف یو جی سی کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کی، بلکہ حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ اس سے پارٹی کے اندر داخلی رنجش کا اندیشہ بہت بڑھ گیا ہے، جو کہ یوگی حکومت کے لیے مشکلیں کھڑا کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق شراوستی میں سابق ضلع صدر اودے پرکاش تیواری نے یو جی سی کے نئے قانون پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ اصولوں کو ناقابل قبول ٹھہرایا۔ انھوں نے پی ایم مودی کے ’من کی بات‘ کی بھی سخت مخالفت کی اور کہا کہ ’من کی بات‘ سننا کوئی ضروری نہیں ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق ضلع صدر نے کہا کہ یو جی سی ہمارے بچوں کے لیے بہت نقصاندہ ہے، اور اس قانون کے کچھ اصول ہمارے بچوں کے مفاد میں نہیں ہیں۔
دوسری طرف بی جے پی ایجوکیشن سیل کے ضلع صدر راج کشور پانڈے نے بھی نئے قانون کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے اسے برہمن اور اعلیٰ ذات کے بچوں کا مخالف قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برہمن اور اونچی ذات کے لیے کہیں نہ کہیں یہ قانون خطرہ ہے۔ راجدھانی لکھنؤ سے بھی بی جے پی کے لیے بری خبر سامنے آ رہی ہے۔ ضلع بی جے پی کے کمہراواں ڈویژن کے ڈیوژنل جنرل سکریٹری انکت تیواری نے یو جی سی قانون کی مخالفت میں اپنے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے ساتھ 10 دیگر عہدیداروں نے بھی اجتماعی طور سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان سبھی نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی اپنے بنیادی اصولوں سے بھٹک گئی ہے۔
اس درمیان بریلی سٹی مجسٹریٹ عہدہ سے استعفیٰ دینے والے النکار اگنی ہوتری کا تازہ بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے ایک میڈیا ادارہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اتر پردیش میں برہمن مخالف مہم چل رہی ہے۔ جیل میں ڈپٹی جیلر نے پیٹ پیٹ کر برہمن کا قتل کر دیا۔ ایک تھانہ میں معذور کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔ مونی اماوسیا پر شنکراچایہ اویمکتیشورانند کے شاگردوں کو، خصوصاً ضعیف سنیاسیوں کو لات گھونسوں سے مارا گیا۔‘‘ یو جی سی کے نئے قانون سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ ’’جو ریگولیشن آیا ہے، اس میں جنرل طبقہ کے طلبا کو مجرم مان لیا گیا ہے۔ اگر جنرل طبقہ کا بیٹا پڑھائی میں اچھا ہے تو رنجش سے کوئی بھی تفریق کرنے کا الزام عائد کر دے گا اور ’سمتا سمیتی‘ اس کا استحصال کر سکے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جب ہم یونیورسٹی میں تھے، تب ایس سی، ایس ٹی سب ساتھ پڑھتے تھے۔ اب آپ ایسا نظام بنانے جا رہے ہیں جب ذات، کنیت دیکھ کر آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کو ماریں گے۔‘‘ وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں خانہ جنگی کی حالت پیدا ہو؟
النکار اگنی ہوتری نے ریاستی اور مرکزی حکومت کے تئیں اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت جنرل کیٹگری حکومت سے بہت ناراض ہے۔ ذہنی طور سے وہ حکومت سے خود کو الگ کر چکا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں ہی اقلیت میں آ چکی ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ جنرل کیٹگری آپ کے ساتھ نہیں ہے۔ النکار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر آج انتخابات ہو جائیں تو مرکز اور ریاست دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت نہیں بچے گی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بی جے پی کا مخفف پہلے ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ تھا، آج یہ ’بدیسی جنتا پارٹی‘ ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔