یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف سپریم کورٹ میں دو عرضیاں، عام طبقے کے ساتھ امتیاز کا الزام
یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف سپریم کورٹ میں دو عرضیاں داخل کی جا چکی ہیں، جن میں ضابطہ 3(سی) کو عام طبقے کے لیے امتیازی اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دے کر اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے

نئی دہلی: اعلیٰ تعلیمی اداروں سے متعلق یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے ضوابط کے خلاف مخالفت کا سلسلہ جاری ہے اور اب اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک اور عرضی داخل کی گئی ہے۔ اس تازہ عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یو جی سی کے نئے ضوابط عام طبقے کے لیے امتیازی نوعیت کے ہیں اور یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
یہ عرضی وکیل ونیت جندل کی جانب سے داخل کی گئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یو جی سی ریگولیشنز 2026 کا ضابطہ 3(سی) عام طبقے کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کو فروغ دیتا ہے۔ عرضی میں سپریم کورٹ سے گزارش کی گئی ہے کہ مذکورہ ضابطے کے نفاذ پر روک لگائی جائے اور 2026 کے ضوابط کے تحت بنائی گئی پوری نظامِ کار کو تمام ذاتوں اور طبقات کے افراد پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ 3(سی) مساوات کے اصول کے منافی ہے اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بعض طبقوں، بالخصوص عام طبقے، کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عرضی گزار کے مطابق، برابری کے فروغ کے نام پر ایسا نظام قائم کیا جا رہا ہے جو درحقیقت نئے امتیازات کو جنم دے سکتا ہے اور بعض طلبہ کو تعلیم کے مواقع سے محروم کر سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب یو جی سی کے ان ضوابط کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی ایک عوامی مفاد کی عرضی کے ذریعے ضابطہ 3(سی) کو من مانا، امتیازی اور آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ ضابطہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت مساوات کے حق، آرٹیکل 19 کے تحت آزادیِ اظہار اور آرٹیکل 21 کے تحت شخصی آزادی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے ضوابط یو جی سی ایکٹ 1956 کی روح اور اعلیٰ تعلیم میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے بنیادی مقصد کے برخلاف ہیں۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے 13 جنوری کو ’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط 2026‘ نافذ کیے تھے، جن کے تحت تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں ایکوئٹی کمیٹی تشکیل دینے اور امتیاز مخالف پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یو جی سی کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں یونیورسٹیوں میں ذات پر مبنی امتیاز سے متعلق شکایات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر یہ ضوابط تیار کیے گئے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ضوابط کی بعض شقیں نئے قانونی اور آئینی سوالات کو جنم دے رہی ہیں، جن پر سپریم کورٹ کی حتمی رائے کا انتظار ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔