سنٹرل یونیورسٹی گاندربل میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کا ہوسٹل سہولیات سے محروم رکھے جانے پر احتجاج

طلبا و طالبات نے پیر کے روز کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے، اگرچہ مین گیٹ کو بند رکھا گیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی طلبا نے زبردستی گیٹ کھول کر شاہراہ پر آکر احتجاج کیا۔

احتجاجی مظاہرہ، علامتی تصویر
احتجاجی مظاہرہ، علامتی تصویر
user

یو این آئی

سری نگر: وسطی ضلع گاندربل کی سینٹرل یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور الزام لگایا کہ پچھلے دو سالوں سے اُنہیں ہوسٹل سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے جس وجہ سے کل ہی ایک طالبہ کی دم گھٹنے سے موت واقع ہوئی۔ سینٹرل یونیورسٹی گاندربل میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے پیر کے روز کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اگر چہ مین گیٹ کو بند رکھا گیا تھا تاہم اس کے باوجود بھی طلبا نے زبردستی گیٹ کھول کر شاہراہ پر آکر احتجاج کیا۔

احتجاجی طلبا نے بتایا کہ ’اتوار کی شام کو سینٹرل یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالبہ کی دم گھٹنے سے موت واقع ہوگئی جس کے خلاف ہم آج احتجاج کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طالبہ و طالبات کو ہوسٹل سہولیات فراہم کی گئی ہوتی تو مذکورہ طالبہ کی جان ضائع نہ ہوتی۔


احتجاج میں شامل مظاہرین نے بتایا کہ ہوسٹل سہولیات کے حوالے سے اگر چہ یونیورسٹی انتظامیہ کو بار بار آگاہ بھی کیا گیا، تاہم اُن کی آواز صدا بہ صحرا ہی ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہوسٹل کی عدم دستیابی کے باعث وہ کرایہ کے کمروں میں رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اتوار کی شام کو اُس وقت دلخراش واقعہ پیش آیا جب مذکورہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالبہ کرایہ پر لئے گئے کمرے میں دم گھٹنے کے باعث داعی اجل کو لبیک کہہ گئی‘۔

احتجاجی طلبا نے بتایا کہ سینٹرل یونیورسٹی انتظامیہ صرف کھوکھلے وعدے کر رہی ہے عملی طور پر اُنہیں ہوسٹل سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے کارگر اقدامات نہیں اُٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس اور سینٹرل یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاجی طلبا کو یقین دلایا کہ معاملہ اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا جائے گا جس کے بعد وہ پُر امن طور پر منتشر ہوئے۔


یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اتوار کی شام کو سالورہ گاندربل علاقے میں کرایہ کے کمرے میں رہائش پذیر دو طالبات دم گھٹنے سے بے ہوش ہوگئیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے ایک طالبہ جانبر نہ ہو سکی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔