بنگلورو: مردہ حالت میں پائے گئے ایک ہی کنبہ کے 5 افراد، 9 مہینے کا بچہ بھی شامل

بتایا جا رہا ہے کہ پانچوں لاشوں کے ساتھ گھر میں پانچ دن سے ایک ڈھائی سال کی بچی رہ رہی تھی، جسے اب باہر نکال لیا گیا ہے، وہ تقریباً بیہوشی کی حالت میں پائی گئی تھی

لاش برآمد، تصویر آئی اے این ایس
لاش برآمد، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بنگلورو: کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا ہے۔ شہر کے بیداراہلی علاقے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ ان میں سے چار افراد پھندے سے لٹکے ہوئے تھے جبکہ ایک 9 ماہ کے بچے کی لاش بستر سے برآمد ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں یہ خودکشی کا معاملہ لگتا ہے۔ اس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد دہلی کے براڑی سانحہ کی یادیں لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہوگئی ہیں، جہاں دو سال قبل ایک گھر سے 11 لاشیں لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ پانچوں لاشوں کے ساتھ گھر میں پانچ دن سے ایک ڈھائی سال کی بچی رہ رہی تھی، جسے اب باہر نکال لیا گیا ہے، وہ تقریباً بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی۔ پولیس نے کہا ہے کہ لوگوں کی موت کس طرح ہوئی اس کا پتا پوسٹ مارٹ رپورٹ کے آنے کے بعد ہی چل سکے گا۔


بتایا جا رہا ہے کہ پانچوں لاشوں کے ساتھ گھر میں پانچ دن سے ایک ڈھائی سال کی بچی رہ رہی تھی، جسے اب باہر نکال لیا گیا ہے، وہ تقریباً بیہوشی کی حالت میں پائی گئی ہے۔ گھر سے جن لوگوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں: زندہ بچ گئی بچی کی ماں سینچنا، عمر 34 سال، بچی کی دادی بھارتی عمر 51 سال، بچی کی خالہ سندھورانی، عمر 31 سال، بچی کے ماموں مدھوساگر عمر 25 سال اور ایک 9 مہینے کا بچہ۔

پولیس نے لڑکی کو اسی کمرے میں پایا جہاں مدھوساگر پھانسی پر لٹکا ہوا پایا گیا تھا۔ فی الحال لڑکی کو علاج کے لیے نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ اسے علاج کے ساتھ مشاورت کی ضرورت ہوگی۔


ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ویسٹ) سومیندو مکھرجی نے کہا کہ ہمیں گھر سے کوئی سوسائڈ نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے۔ گھر کے بزرگ اور بچی کے دادا مدھوساگر شنکر صدمے کی حالت میں ہیں۔ شنکر نے کہا ہے کہ ان کی بیٹیاں اپنے شوہروں سے جھگڑا کرنے کے بعد گھر گئی تھیں۔ اس معاملے کو حل کرنے اور انہیں اپنے شوہروں کے پاس واپس بھیجنے کے بجائے ان کی بیوی بھارتی نے انہیں یہیں رہنے کی ترغیب دی۔

شنکر نے کہا کہ ’’میں نے اپنی بیٹیوں سینچنا اور سندھورانی کو تعلیم دلانے کے لیے سخت محنت کی۔ بیٹا مدھو ساگر بھی انجینئرنگ گریجویٹ تھا اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ سینچنا نے اپنے شوہر کے ساتھ اپنی بیٹی کے کان چھیدنے کی تقریب پر لڑائی کی اور گھر واپس آئی تھی۔ مالی معاملات کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔ انہوں نے یہ مہلک قدم چھوٹے چھوٹے مسائل پر اٹھایا۔‘‘


پولیس نے بتایا کہ پڑوسیوں نے انہیں اطلاع دی کہ شنکر اور اس کے بیٹے مدھوساگر کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔ مار پیٹ کے بعد شنکر گھر سے باہر چلا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد اس خاندان نے اتوار کو ہی خودکشی کر لی۔ لاشیں مسخ شدہ حالت میں برآمد ہوئی ہیں اور فرانسک ماہرین اور پولیس حکام نے کہا ہے کہ اموات پانچ دن پہلے ہوئی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔