اکھلیش یادو کے چچا شیوپال نے ’اتحاد‘ کو لے کر دیا ایک ہفتہ کا الٹی میٹم

شیوپال یادو نے کہا کہ اتحاد کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی کو بھی ان لوگوں کو ٹکٹ دینا چاہیے جو کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، ہم انضمام کو تیار ہیں لیکن جلد ہی اکھلیش کو فیصلہ لینا چاہیے۔

اکھلیش یادو اور شیوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
اکھلیش یادو اور شیوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پرگتی شیل سماجوادی پارٹی لوہیا (پی ایس پی ایل) سربراہ شیوپال یادو نے اپنے بھتیجے اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو اتحاد یا انضمام سے متعلق فیصلہ لینے کے لیے ایک ہفتہ کا الٹی میٹم دیا ہے۔ شیوپال یادو نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’ہم سماجوادی پارٹی میں انضمام کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایک ہفتہ کے اندر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ہم لکھنؤ میں ایک سمیلن کریں گے اور اپنے لوگوں سے صلاح و مشورہ کر کے فیصلہ لیں گے۔‘‘

شیوپال یادو نے پیر کی شب لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو سے بھی ملاقات کی اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ان سے اس سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہماری ترجیح سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا ہے۔ نیتا جی (ملائم) کے یوم پیدائش پر پوری ریاست کے لوگ اتحاد کی امید کر رہے تھے، جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ جلدی ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’نیتا جی‘ نے نہ صرف ہمیں سکھایا ہے بلکہ ہمیں کشتی کے داؤ پیچ اور سیاست کے گُر بھی سکھائے ہیں۔ اتحاد میں ہی طاقت ہے۔ فیملی میں بٹوارا ہوتا ہے تو کئی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنے حامیوں سے 100 سیٹیں چاہیئں، لیکن اب ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں، ہم جھک گئے ہیں۔ آج یہ کہتے ہوئے دو سال ہو گئے، لیکن ابھی تک کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔


شیوپال یادو کا کہنا ہے کہ ’’اتحاد کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی کو بھی ان لوگوں کو ٹکٹ دینا چاہیے جو جیت کی حالت میں ہیں۔ ہم انضمام کو تیار ہیں۔ وقت ختم ہو رہا ہے اور جلد ہی فیصلہ لیا جانا چاہیے۔‘‘ پی ایس پی ایل سربراہ نے کہا کہ انھوں نے ہمیشہ قربانی دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں چاہتا تو سال 2003 میں وزیر اعلیٰ بن سکتا تھا، لیکن مایاوتی کے بی جے پی اتحاد سے باہر ہونے کے بعد میں نے نیتا جی کو دہلی سے بلا کر وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ اس وقت بی جے پی کے 25 اراکین اسمبلی سمیت اجیت سنگھ، کلیان سنگھ بھی ہمارے ساتھ تھے۔‘‘ شیوپال یادو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگ پی ایس پی ایل کو چھوٹی پارٹی کہتے تھے، لیکن متھرا سے ’سماجی پریورتن یاترا‘ شروع ہونے کے بعد لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ ہم ایک طاقت ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔