شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے ہندوستان کی تقسیم کو سب سے بڑا غلط فیصلہ قرار دیا

مولانا کلب جواد نے کہا کہ آزادی کے بعد سے سیاسی پارٹیوں نے مسلم سماج کو ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہں مانا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی خستہ حالی کے لئے یہ بات خاص طور سے ذمہ دارہے۔

مولانا کلب جواد، تصویر آئی اے این ایس
مولانا کلب جواد، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سہارنپور: شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے کہا کہ ملک کی تقسیم سب سے بڑی غلطی تھی۔ اس ایک غلط فیصلے سے مسلمانوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا۔ دیوبند کوتوالی کے گاؤں تھیتھک میں ذیشان حیدر کے چہلم میں شرکت کرنے پہنچے مولانا جواد نے کہا کہ جموں۔ کشمیر ہندوستان کا اٹوت حصہ ہے۔ وہاں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے پوری طرح سے پاکستان کا کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ ستمبر کو گئو کشی کی اطلاع پر پہنچی پولیس کی موجودگی میں گولی لگنے سے مشتہ حالت میں ایک کسان کی موت ہوگئی تھی۔ اہل خانہ پولیس پر قتل کا الزام لگا رہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی امور نے بھی اس معاملے میں دیوبند پولیس کے افسران کو طلب کیا ہے۔ متوفی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس اس معاملے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔


شیعہ عالم دین نے کہا کہ وہ موت کے معاملے کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملیں گے۔ ان کی کوشش رہے گی کہ متوفی کے اہل خانہ کو انصاف ملے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا کہ آزادی کے بعد سے سیاسی پارٹیوں نے مسلم سماج کو ووٹ بینک سے زیادہ کچھ نہیں مانا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی خستہ حالی کے لئے یہ بات خاص طور سے ذمہ دار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔