مرکزی حکومت اقلیتی فرقے کے تحفظ کے لئے وعدہ بند ہے: ہردیپ پوری

ہردیپ پوری کا کہنا تھا کہ ہمارے سماج میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو گمراہ ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ترقی ہو رہی ہے اور امن قائم ہو رہا ہے تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ اب صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔

ہردیپ پوری، تصویر یو ین آئی
ہردیپ پوری، تصویر یو ین آئی
user

یو این آئی

جموں: مرکزی وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ اور شہری امور ہردیپ پوری کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کشمیر میں اقلیتی فرقے کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے وعدہ بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور اب اگر کوئی کسر باقی ہے تو اس کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 عارضی دفعہ تھی اور اس کا مستقل بن جانا ترقی کے لئے رکاوٹ بن گیا تھا۔ موصوف مرکزی وزیر نے ان باتوں کا اظہار ایک نیوز پورٹل کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں اقلیتی فرقے کے لئے لوگوں کی سیکورٹی کے لئے وعدہ بند ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے سماج میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو گمراہ ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ ترقی ہو رہی ہے اور امن قائم ہو رہا ہے تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ اب صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اگر تھوڑی بہت کسر باقی ہے تو یہ امن و قانون کا مسئلہ ہے جس کو ٹھیک کیا جا رہا ہے‘۔


جموں اسمارٹ سٹی کے بارے میں پوچھے جانے پر ہردیپ پوری نے کہا کہ ’سال 2015 میں ایک سو اسمارٹ سٹیز کا اعلان ہوا تھا اور اعلان کے بعد ایک سٹی کو اسمارٹ سٹی بنانے میں پانچ برس لگ جاتے ہیں‘۔ دویندر سنگھ رانا اور سرجیت سنگھ سلاتھیہ کے بی جے پی میں شامل ہونے پر خوشی اظہار کرتے ہوئے موصوف مرکزی وزیر کا کہنا تھا کہ ’میں رانا صاحب کو بہت پہلے سے جانتا تھا اور ہم ان کا اور ان کے دوسرے ساتھیوں کا پارٹی میں استقبال کرتے ہیں‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Oct 2021, 2:11 PM