دہلی پولیس چیف راکیش استھانہ کو لگا جھٹکا، تقرری کے خلاف عرضی سپریم کورٹ میں منظور، سماعت 26 نومبر کو

12 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے استھانہ کی 31 جولائی کو سبکدوشی سے پہلے 27 جولائی کو دہلی پولیس کمشنر کی شکل میں تقرری کے خلاف عرضی کو خارج کر دیا تھا۔

راکیش استھانہ / آئی اے این ایس
راکیش استھانہ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے جمعرات کو گجرت کیڈر کے آئی پی ایس افسر راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنر کے طور پر تقرری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر غور کرنے کو منظوری دے دی۔ این جی او سنٹر فار پبلک انٹریسٹ لٹگیشن کی نمائندگی کر رہے وکیل پرشانت بھوشن نے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ سے کہا کہ وہ پیر تک دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دیتے ہوئے ایک خصوصی اجازت کی عرضی داخل کریں گے، جس میں کہا گیا تھا کہ دہلی پولیس کمشنر کی شکل میں استھانہ کی تقرری میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہے۔

مرکز کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور استھانہ کی جانب سے سینئر وکیل مکل روہتگی نے رِٹ عرضی کے زیر التوا رہنے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ایشو پر پہلے ہی ہائی کورٹ کے ذریعہ فیصلہ دی جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حالانکہ عدالت ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر غور کر سکتی ہے۔ معاملے میں مختصر دلائل سنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے معاملے کو 26 نومبر کو آگے کی سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ بنچ نے وکیل پرشانت بھوشن کو مرکز کے وکیل کے ساتھ ساتھ استھانہ کو بھی عرضی کی کاپی دینے کے لیے کہا ہے تاکہ سماعت میں تاخیر کے کسی بھی امکان سے بچا جا سکے۔


اس سے قبل 12 اکتوبر کو دہلی ہائی کورٹ نے استھانہ کی 31 جولائی کو سبکدوشی سے ٹھیک پہلے 27 جولائی کو دہلی پولیس کمشنر کی شکل میں تقرری کے خلاف عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ عرضی دہندہ (وکیل صدر عالم اور وکیل پرشانت بھوشن کی قیادت میں این جی او سی پی آئی ایل) مداخلت کی بات کرنے والا معاملہ ہیں بنا پائے ہیں، یا وہ یہ بھی ظاہر نہیں کر پائے ہیں کہ استھانہ کے کیریر میں کوئی داغ ہے، جو انھیں عہدہ کے لیے نامناسب بناتا ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔