کسان تحریک: غازی پور بارڈر پر لگا کسانوں کا جم غفیر، پولیس کے پھولے ہاتھ پاؤں

کسان تحریک میں شامل ہونے کے لئے مسلسل لوگ آرہے ہیں، ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئے تشدد کے بعد یوپی، پنجاب اور ہریانہ میں پنچایتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان پنچایتوں کا بنیادی مقصد تحریک کو مزید تیز کرنا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی میں کسان ٹریکٹر ریلی کے دوران ہونے والے تشدد کے بعد یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ کسانوں کی تحریک بکھر جائے گی۔ لیکن کسان رہنما راکیش ٹکیٹ کی اپیل کے بعد اس تحریک میں لوگوں کا کئی گنا اضافہ ہوگیا اورغازی پور بارڈر پر کسانوں کی آبادی میں روز بروز مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ کسانوں کے بڑھتے جم غفیر کو دیکھتے ہوئے پولیس انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس نے غازی پور بارڈر پر سیکورٹی سخت کر دی ہے۔

پولیس انتظامیہ پرکتنا دباؤ بڑھا ہے، اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا کہ کسانوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر غازی پور بارڈر پر راتوں رات 12 لیئر کی بیریکیڈنگ کر دی گئی ہے۔ نیز، پولیس کی طرف سے نوکیلے تاروں کو بھی لگایا گیا ہے۔ این ایچ 24 کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ نوئیڈا سیکٹر 62 سے اکشردھم جانے والی سڑک بھی مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔


دوسری طرف، کسانوں کے ذریعہ مستقل طور پر تحریک کو تیز کرنے کی کوشش جاری ہے۔ دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسان ٹریکٹر پریڈ کے دوران تشدد کے بعد یوپی، پنجاب اور ہریانہ میں پنچایتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پنچایتوں کا بنیادی مقصد تحریک کو مزید تیز کرنا ہے۔ کسان پوری مضبوطی کے ساتھ ایک بار پھر دہلی پہنچ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی پولیس نے کسانوں کو ریاست میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے بھی تیاریاں کرلی ہیں۔ غازی پور بارڈر کو قلعے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ دہلی میں ہوئے تشدد کے بعد غازی پور بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں پر احتجاج کی جگہ خالی کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ کسان تحریک کچھ گھنٹوں کی مہمان ہے، لیکن راکیش ٹکیٹ کے آنسوؤں نے پوری تصویر ہی بدل دی وہ بضد ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہو، وہ احتجاج کا مقام خالی نہیں کریں گے۔ انہوں نے جو اپیل کی اس کا اثر یہ ہوا کہ کہ راتوں رات مغربی اتر پردیش کے کسان بڑی تعداد میں غازی پور بارڈر پر پہنچ گئے اور اس تقریباً ختم ہوچکی تحریک کو زندہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔