سیکورٹی کا معاملہ: اسمبلی انتخابات میں ہمدردی کی لہر پیدا کرنے کی کوشش... سہیل انجم

پی ایم مودی کی سیکورٹی میں خامی کے معاملے کو جس طرح سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے وہ بہت افسوسناک ہے اور ملکی سیاست میں آئے زوال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

وزیر اعظم کی حفاظت میں کوتاہی کی تحقیقات کے لئے پنجاب کے فیروز پور کا دورہ کرتی وزارت داخلہ کی ٹیم / یو این آئی
وزیر اعظم کی حفاظت میں کوتاہی کی تحقیقات کے لئے پنجاب کے فیروز پور کا دورہ کرتی وزارت داخلہ کی ٹیم / یو این آئی
user

سہیل انجم

وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکورٹی میں کوتاہی کے معاملے نے سیاسی رخ لے لیا ہے اور اب اس کے نام پر سطحی سیاست شروع ہو گئی ہے۔ ان کی سیکورٹی میں خامی یا کوتاہی کی جانچ کی جا رہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یہ امید بھی کی جانی چاہیے کہ اس معاملے میں جو لوگ قصوروار پائے جائیں گے ان کے حلاف کارروائی ہوگی۔ لیکن سیکورٹی میں خامی کے اس معاملے کو جس طرح سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے وہ بہت افسوسناک ہے اور ملکی سیاست میں آئے زوال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ وزیر اعظم کی سیکورٹی میں خامی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکورٹی میں خامی کا شاید پہلا واقعہ ہے۔ یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ اس نازک معاملے کو سیاست سے جوڑا گیا اور اس سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا کہ بہت سے مبصرین کا خیال ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ تک کئی وزیر اعظم کی سیکورٹی میں خامیوں کے معاملے سامنے آئے ہیں یا وہ لوگ عوام کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ لیکن کسی نے بھی اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے اور سیاسی حریفوں کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش نہیں کی۔


ملک کی آزادی کے بعد پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کی مانند اگر کوئی واقعہ نریندر مودی کے ساتھ ہو جاتا تب تو پتہ نہیں کیا ہوا ہوتا۔ پنڈت نہرو پارلیمنٹ ہاوس جا رہے تھے اور جیسے ہی وہ گاڑی سے اترے ایک ضعیفہ نے ان کا گریبان پکڑ لیا اور کہا کہ ملک آزاد ہو گیا آپ وزیر اعظم بن گئے لیکن مجھے کیا ملا۔ اس پر پنڈت نہرو نے دانشورانہ جواب دیا تھا اور اس ایک سطری جواب میں پوری تاریخ پوشیدہ تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’تمھیں یہ ملا ہے کہ تم ملک کے وزیر اعظم کا گریبان پکڑ سکتی ہو‘‘۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کو حقیقی آزادی 2014 کے بعد ملی ہے کیا وہ کسی عام شخص کو وزیر اعظم کا گریبان پکڑنے کی اجازت دیں گے۔ حالانکہ حقیقی اور عوامی حکمراں وہی ہے جس کے نزدیک عوام آسانی سے پہنچ سکیں اور اپنی بات رکھ سکیں یا اپنی شکایت کر سکیں۔

وزیر اعظم اندرا گاندھی کے جلسوں میں پتھر پھینکے گئے تھے اور وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا قافلہ متعدد بار عوامی اژدہام میں پھنسا تھا اور ٹریفک میں کافی دیر دیر تک ان کو انتظار کرنا پڑا تھا۔ وزیر اعظم راجیو گاندھی عوامی جلسوں کے دوران عوام کی بھیڑ میں گھس جایا کرتے تھے۔ ان پر کئی بار حملوں کے چھوٹے چھوٹے واقعات پیش آئے تھے لیکن انھوں نے اس کی پروا نہیں کی تھی۔ بالآخر ایسی ہی ایک بھیڑ میں ان کی جان لے لی گئی۔ لیکن انھوں نے کبھی بھی اپنی جان کی پروا نہیں کی تھی۔ پنڈت نہرو تو مولانا آزاد کے جلوس جنازہ میں بھیڑ کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ وی پی سنگھ ہوں یا چندر شیکھر یا پھر گجرال اور دیوے گوڑا، سب کو کسی نہ کسی مرحلے میں ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ لیکن کسی نے یہ رونا نہیں رویا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔


لیکن وزیر اعظم نریندر مودی جو فلائی اوور پر بیس منٹ پھنسنے کے بعد واپس بھٹنڈہ ایئرپورٹ پہنچے تو خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق انھوں نے وہاں ایک افسر سے کہا کہ اپنے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرنا کہ میں زندہ واپس آگیا۔ حالانکہ کئی روز گزر جانے کے باوجود یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھوں نے کس افسر سے کہا تھا اور اس افسرنے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا یا نہیں۔ خود اے این آئی نے ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی کہ وزیر اعظم نے یہ بات کس سے کہی اور کیا اس افسر نے اس کو یہ بات بتائی یا اس کے نامہ نگار نے سن لی تھی۔ اس معاملے میں زبردست ابہام ہے۔ لیکن اس کو اس طرح اچھالا جا رہا ہے جیسے پنجاب کی حکومت نے وزیر اعظم پر حملے کا کوئی منصوبہ بنایا تھا۔

اب اس پر مباحثے ہو رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی جان کو خطرہ تھا۔ (ایک 56 انچ سینے والے وزیر اعظم کا اس طرح ڈر جانا بہت افسوسناک ہے) ان کی زندگی کے لیے بی جے پی رہنماوں اور کارکنوں کی جانب سے پوجا پاٹھ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کی قیادت مدھیہ پردیش کے وزیرر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے کی۔ پوری بی جے پی یہ ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے کہ پنجاب کی حکومت نے وزیر اعظم کی سیکورٹی کا کوئی انتظام نہیں کیا اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے کہ اگر وزیر اعظم آگے بڑھتے تو ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ فلائی اوور پر وزیر اعظم کی گاڑی کے بالکل نزدیک بی جے پی کے کارکن نظر آرہے ہیں جو پارٹی کا جھنڈا لیے ہوئے ہیں۔ وہ کسان جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ احتجاج کر رہے تھے وہ کافی دور ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا نریندر مودی کو بی جے پی کارکنوں سے خطرہ تھا۔


دراصل اس بحث کا آغاز خود وزیر اعظم نے کیا تھا۔ اگر انھوں نے یہ نہیں کہا ہوتا کہ اپنے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرنا کہ میں زندہ واپس آگیا تو یہ بحث ہی نہیں ہوتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے وزیر اعظم خود اس قسم کی بحث کا دروازہ کھولنا چاہتے تھے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ خاموشی سے واپس آجاتے اور کوئی تبصرہ نہ کرتے۔ کیا ان کو نہیں معلوم ہے کہ پہلے بھی وزرائے اعظم کے قافلوں کو ٹریفک میں رکنا پڑا تھا اور کسی بھی وزیر اعظم نے ایسا کوئی خطرہ ظاہر نہیں کیا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بات جانتے ہوئے بھی انھوں نے جان کے خطرے کی بات کہی تاکہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا سکے۔

مبصرین کا یہاں تک کہنا ہے کہ اس وقت پانچ ریاستوں میں جو انتخابات ہونے والے ہیں ان میں بی جے پی کی حالت پتلی ہے۔ خود فیروزپور کی ریلی میں بہت کم لوگ آئے تھے جسے وزیر اعظم کو خطاب کرنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے پاس کوئی جذباتی ایشو نہیں ہے جس کو بنیاد بنا کر عوام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ مندر کا ایشو چل نہیں رہا ہے۔ وارانسی سے بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ ہیٹ اسپیچ اور مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کے واقعات سے بھی بی جے پی کے حق میں کوئی لہر پیدا نہیں ہو رہی ہے۔ ایسے مواقع پر ضرورت اس بات کی محسوس کی جا رہی ہے کہ بی جے پی کے حق میں ہمدردی کی لہر پیدا کی جائے۔ یہ ہمدردی کی لہر کیسے پیدا ہوگی اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ اب جبکہ انتخابی تاریخوں کا اعلان ہو گیا ہے تو اب جب بھی وزیر اعظم کسی ریلی کو یا کسی جلسے کو خطاب کرنے جائیں گے تو اپنی جان کو لاحق نام نہاد خطرے کو خوب اچھالیں گے۔ دوسرے بی جے پی لیڈر بھی اس کو اچھالیں گے اور کوشش کریں گے کہ بی جے پی کے حق میں ہمدردی کی لہر پیدا ہو جائے۔


لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ بی جے پی اس میں کامیاب ہو جائے؟ اس سوال کا جواب زمین پر ہے اور یہ جواب وہ لوگ دیں گے جو پانچوں ریاستوں میں ووٹ ڈالنے جائیں گے۔ اگر سوشل میڈیا اور یو ٹیوب چینلوں پر آنے والی عوامی آراء پر غور کریں تو ایسا نہیں لگتا کہ اس واقعہ سے ہمدردی کی کوئی لہر پیدا ہوگی۔ عوام کے خیال میں وزیر اعظم نے ایک جذباتی ماحول بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ان کے بقول وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ عوام مہنگائی اور دوسرے مسائل میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں اور جہاں تک اترپردیش کی بات ہے تو لوگ یوگی حکومت سے خوش نہیں ہیں۔ لہٰذا اس کی امید کم ہے کہ اس واقعہ سے ہمدردی کی کوئی لہر ابھرے گی اور بی جے پی کو کوئی انتخابی فائدہ ہوگا۔ اس لیے عوام کو تیار رہنا چاہیے کہ ابھی ایسے مزید سنسنی خیز واقعات پیش آسکتے ہیں اور ملکی سیاست کو 2014 کے بعد سے جس نچلی سطح پر پہنچا دیا گیا ہے ابھی اسے اور نیچے پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔