دھرم سنسد: نفرت انگیز تقاریر کے خلاف عرضی پر اتراکھنڈ حکومت سے سپریم کورٹ کا جواب طلب

کپل سبل نے کہا کہ کئی ایسی ریاستوں میں مختلف دھرم سنسد مزید منعقد ہونے جا رہی ہیں، جہاں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز صحافی قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش کی اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کر دیا، جس میں ہریدوار میں ’دھرم سنسد‘ کے دوران مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس این وی رمنا کی سربراہی والی جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی پر مشتمل بنچ نے عرضی گزاروں کو اجازت دی کہ وہ 23 جنوری کو علی گڑھ میں ہونے والی مجوزہ دھرم سنسد کو روکنے کی درخواست کے ساتھ مقامی حکام سے رجوع کریں۔

عرضی گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ علی گڑھ میں ایک اور دھرم سنسد منعقد ہونے جا رہی ہے۔ چونکہ معاملہ عدالت عظمیٰ کے علم میں ہے لہذا نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کو روکنے کے لیے کچھ ہدایات جاری کی جانی چاہئیں۔


کپل سبل نے کہا کہ کئی ایسی ریاستوں میں مختلف دھرم سنسد منعقد ہونے جا رہی ہیں، جہاں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔ نفرت انگیز تقاریر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اس ملک کی اخلاقیات اور اقدار کے خلاف ہے اور ان لوگوں کو کسی خاص طبقہ کے خلاف بیان دینے سے روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔ خیال رہے کہ پیر کے روز سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی جس میں ایس آئی ٹی کے ذریعے معاملے کی آزاد، منصفانہ اور قابل اعتماد جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایڈووکیٹ سومیتا ہزاریکا کے ذریعے دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ ''نفرت انگیز تقاریر میں مسلمانوں کی نسل کشی کے لیے کھلے عام اعلان کیا گیا تھا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مذکورہ تقاریر محض نفرت انگیز تقاریر نہیں ہیں، بلکہ یہ تقاریر کھلم کھلا نفرت پھیلانے کے مترادف ہیں۔ اس طرح مذکورہ تقریریں نہ صرف ہمارے ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ لاکھوں مسلم شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں۔‘‘


عرضی میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 3 ہفتے گزر جانے کے بعد بھی پولیس افسران کی جانب سے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس میں نفرت انگیز تقاریر کے لیے آئی پی سی کی دفعہ 120B ،121A اور 153B کا اطلاق شامل ہے۔

عرضی میں مزید بتایا گیا کہ پولیس حکام نے 10 لوگوں کے خلاف دو ایف آئی آر درج کی ہیں، جنہوں نے ہریدوار دھرم سنسد میں شرکت کی تھی، لیکن مذکورہ ایف آئی آر میں بھی آئی پی سی کی صرف دفعہ 153A ،295A اور 298 عائد کی گئی ہے۔


عرضی میں کہا گیا کہ "پولیس کی طرف سے بے عملی اس وقت بھی منظر عام پر آئی جب ایک پولیس افسر کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی، جس میں ایک افسر نے کھلے عام دھرم سنسد کے ملزمان منتظمین اور مقررین سے وفاداری کا اعتراف کیا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔