وزیر اعظم کی حفاظت میں کوتاہی: آزادانہ تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی کمیٹی تشکیل

سپریم کورٹ نے جسٹس اندو ملہوترا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو سوال پیدا ہوئے ہیں انہیں کسی یکطرفہ جانچ پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس معاملہ میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اندو ملہوترا، تصویر آئی اے این ایس
اندو ملہوترا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 5 جنوری کو دورہ پنجاب کے وقت وزیر اعظم نریندر مودی کی حفاظت میں کوتاہی کے معاملہ پر سپریم کورٹ کی ریٹائر جج جسٹس اندو ملہوترا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں ڈائریکٹر جنرل این آئی اے، ڈی جی پی چنڈی گڑھ، آئی جی سلامتی (پنجاب) اور پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل شامل ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے جسٹس اندو ملہوترا کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو سوال پیدا ہوئے ہیں انہیں کسی یکطرفہ جانچ پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس معاملہ میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اصولوں کی خلاف ورزی کی وجوہات معلوم کی جانی چاہیے۔ پتا چلنا چاہیے کہ اس سب کے لئے کون ذمہ دار ہے اور اس طرح کی کوتاہی آگے نہ ہو اس کے لئے ضروری اقدامات کیا ہونے چاہئیں یہ بھی بتایا جائے۔


سپریم کورٹ نے کمیٹی سے کہا ہے کہ رپورٹ جلد از جلد داخل کی جائے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل تمام محفوظ ریکارڈ کمیٹی کے چیئرمین کے سامنے پیش کریں گے۔ خیال رہے کہ پنجاب حکومت اور وزارت داخلہ دونوں نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اپنی اپنی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں لیکن دونوں نے کہا تھا کہ انہیں ایک دوسرے کی تحقیقات پر اعتماد نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔