انتخابات سے قبل بی جے پی میں بھگدڑ، ایک وزیر، 4 ارکان اسمبلی کے بعد ایک اور رکن اسمبلی لاپتہ!

اوریا ضلع کی بدھونا سیٹ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی ونے شاکیہ کی بیٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد کو اغوا کر کے جبراً سماجوادی پارٹی جوائن کرانے لے جایا جا رہا ہے، پولیس نے اس کی تردید کی ہے

ونے شاکیہ
ونے شاکیہ
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ گزشتہ روز وزیر سوامی پرساد موریہ اور چار ارکان اسمبلی نے پارٹی سے استعفی دے دیا۔ اب اوریا ضلع کی بدھونا سیٹ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی ونے شاکیہ غایب بتائے جا رہے ہیں۔ ان کی بیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کو اغوا کر لیا گیا ہے اور جبراً لکھنؤ لے جا کر سماجوادی پارٹی میں شامل کرایا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس نے اپنے بیان میں اس کی تردید کی ہے۔

ونے شاکیہ کی بیٹی ریا نے ایک بیان جاری کر کے اپنے چچا دیویش شاکیہ پر سنگین الزام عائد کیا اور کہا کہ انہیں زبردستی لے جایا جا رہا ہے۔ ریا نے کہا، ’’میں بدھونا کے باشندگان سے اہم بات کہنا چاہتی ہو۔ اپ کو معلوم ہے کہ میرے والد کچھ سال قبل فالج سے متاثر ہو گئے تھے اور وہ چل پھر نہیں پاتے۔ اس بیماری کا فائدہ اٹھا کر میرے چچا دیویش شاکہ نے ان کے نام پر نجی سیاست کی اور عوام کا استحصال کیا۔ وہ حد سے تجاوز کرتے ہوئے میرے والد کو گھر سے اٹھا کر سماجوادی پارٹی میمں شامل کرانے کے لئے لکھنؤ گئے ہیں۔‘‘


ریا مزید کہتی ہیں کہ ’’آج چند لوگ ہمارے سماج کے لیڈر بننے کے نام پر اپنی سیاس چمکا رہے ہیں۔ میں انتظامیہ اور پارٹی قیادت کو بتایا چاہتی ہوں کہ میں اپنے والد کی وارث ہوں اور ہم لوگ پوری طرح بھاجپائی (بی جے پی کے) ہیں۔‘‘

اس تنازعہ پر بی جے پی کی طرف سے کسی لیڈر نے تاحال رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم اوریا ضلع کے لئے ایک معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

دریں اثنا، اوریا کے پولیس سپرینٹنڈنٹ نے کہا کہ رکن اسمبلی ونے شاکیہ بدھونا شانتی کالونی ضلع ایٹاوہ میں خیریت سے اپنی والدہ کے ساتھ موجود ہیں۔ اغوا کا الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے، معاملہ خاندانی تنازعہ سے وابستہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔