دہلی وقف بورڈ میں 11 ماہ سے رکی ہوئی تھی تنخواہ، امانت اللہ خان کے ہاتھوں آج ہوئی ادائیگی

تنخواہ رکنے سے ہونے والی پریشانیوں سے مجبور ہو کر وقف بورڈ عملہ ہڑتال پر چلا گیا تھا۔ بعد ازاں امانت اللہ خان نے جلد تنخواہیں جاری ہونے کا بھروسہ دلاتے ہوئے اس ہڑتال کو ختم کرایا تھا۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: آج دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے وقف بورڈ میں رکی ہوئی تنخواہیں جاری کردیں۔امانت اللہ خان نے 11ماہ سے تنخواہ کے منتظر اسٹاف اور ائمہ حضرات کو تنخواہوں کے چیک حوالے کرتے ہوئے کہا ’’مبارک ہوآپ کے کھاتوں میں تنخواہیں پہونچ گئیں ہیں۔‘‘ تنخواہوں کے چیک ملنے سے وقف بورڈ کے اسٹاف اور ائمہ حضرات کے چہروں پر خوشی کی لہر ہے اور انہوں نے تنخواہیں جاری کرنے کے لیئے چیئرمین امانت اللہ خان کا شکریہ اداکیا۔

چیک جاری کرتے ہوئے امانت اللہ خان نے کہا کہ دہلی اسمبلی کے الیکشن کے بعد سے ہی وقف بورڈ میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہوگیا تھاجس کے بعد تکنیکی بنیاد پر پریشانیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور تنخوہیں رک گئیں تاہم ہماری حکومت اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کی نیتی کے باعث معاملات حل کرنے میں مدد ملی۔ امانت اللہ خان نے آگے کہاکہ جیسے ہی مجھے وقف بورڈ کی ذمہ داری ملی اسی وقت میں نے صاف کردیا تھا کہ جو پریشانیاں ہونی تھیں وہ ہوچکیں اور جلد سے جلد سب کی تنخواہیں جاری کردی جائیں گی۔امانت اللہ خان نے کہا کہ وقف بورڈ کے اکاؤنٹ میں پیسہ تھا تاہم افسران کی نیت صاف نہیں تھی جسکی وجہ سے تاخیر ہوتی چلی گئی۔انہوں نے کہاکہ آج ہم نے تمام رکی ہوئی تنخواہیں جاری کردی ہیں وقف بورڈ کے تمام اسٹاف کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ ائمہ حضرات کی تنخواہیں بھی جاری کردی گئی ہیں،ایک دو دن میں سب کے کھاتوں میں تنخواہیں پہونچ جائیں گی۔


امانت اللہ خان نے مزید کہاکہ وزیر اعلی اروند کیجریوال وقف بورڈ میں تنخواہیں رکنے سے ہونے والی دقتوں سے باخبر تھے اور ان کی مسلسل کوشش تھی کہ جلد سے جلد یہ مسئلہ حل ہو۔امانت اللہ خان نے کہاکہ وزیر اعلی نے آج ہی ملاقات کے دوران مجھ سے کہاکہ تنخواہیں آج ہی جاری کردی جائیں اور اب مزید تاخیر نہ کی جائے۔غور طلب ہے کہ دہلی اسمبلی کے انتخابات کے بعد سے ہی وقف بورڈ میں چیئرمینی کا عہدہ خالی ہوگیا تھا جس کے بعد وقف بورڈ کے عملہ اور وقف بورڈ سے وابستہ ائمہ اور مؤذنین کی تنخواہیں اور وطائف رک گئے۔

تنخواہیں رکنے سے ہونے والی پریشانیوں سے مجبور ہوکروقف بورڈ کا عملہ ہڑتال پر چلاگیا تھا جس کے بعد امانت اللہ خان نے جلد سے جلد تنخواہیں جاری ہونے کا بھروسہ دلاتے ہوئے وقف بورڈ عملہ کا احتجاج ختم کرایا تھا۔ تاہم امانت اللہ خان کے تیسری مرتبہ دہلی وقف بورڈ کا چیئرمین منتخب ہونے کے بعد بھی سائننگ اتھارٹی تبدیل کرنے میں ہونے والی تاخیر کے سبب تنخواہیں جاری کرنے میں تاخیر ہوتی چلی گئی اور وقف بورڈ کا پورا عملہ مایوس نظر آنے لگاپھر بھی عملہ نے وقف بورڈ میں کام جاری رکھا اور آج جب پورے 11ماہ کی رکی ہوئی تنخواہیں جاری کردی گئیں ہیں اور انھیں اپنے موبائل پر تنخواہ جاری ہونے کے پیغامات موصول ہونے شروع ہوگئے ہیں تو وقف بورڈ کے عملہ خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے اور وہ اپنی تمام پریشانیوں کو بھولکر چیئرمین امانت اللہ خان اور وقف بورڈ کے اعلی افسران کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔