صفورہ زرگر، عشرت جہاں اور گل فشاں کو فوری طور پر رہا کیا جائے: حیدرآباد مسلم فورم

فورم کی خواتین جہدکاروں (ایکٹیوسٹوں) نے طلبہ اور تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قید میں رکھ کر جھوٹے معاملات کے ذریعہ اس طرح ڈرانے کی کوششیں شرمناک اور قابل مذمت ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: حیدرآباد مسلم فورم نے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پُرامن اور جمہوری احتجاج کرنے والی گل فشاں، صفورہ زرگر اور عشرت جہاں اور دیگرکو حراست میں رکھنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سب کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ انہوں نے جاری ایک ریلز میں کیا۔

بیان میں فورم کی خواتین جہدکاروں (ایکٹیوسٹوں) نے طلبہ اور تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قید میں رکھ کر جھوٹے معاملات کے ذریعہ اس طرح ڈرانے کی کوششیں شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں معاملات کے درمیان گلفشاں، صفورہ زرگر اورعشرت جہاں جو سی اے اے مخالف احتجاج میں پیش پیش تھیں، کی گرفتاری پر وہ کافی مضطرب ہیں۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے قانون (یو اے پی اے) کی دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں، ساتھ ہی ملک سے غداری کا بھی الزام لگاتے ہوئے تہاڑ جیل میں محروس رکھا گیا ہے۔ حکام جھوٹے بیانیہ کا استعمال کر رہا ہے تاکہ مخالف سی اے اے احتجاج کو مارچ 2020 میں ہوئے دہلی تشدد سے جوڑا جا سکے اور ان خواتین پر اصل سازشی کے طور پرالزامات عائد کیے جاسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس طرح کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقی طور پر اشتعال انگیزی کرنے والے سزا سے بچتے ہوئے آزاد گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عشرت جہاں سابق بلدیاتی کونسلر اور جہد کار نے دہلی کے خوریجی علاقہ میں سی اے اے مخالف احتجاج میں حصہ لیا تھا، انہیں دہلی تشدد کے دوران اقدام قتل کا ملزم بنایا گیا ہے اور جیل میں ان کو اذیتیں دی گئی ہیں۔

اسی طرح سیلم پور میں ہوئے سی اے اے مخالف احتجاج میں حصہ لینے والی طالبہ لیڈر گل فشاں کا نام ایف آئی آر میں ملک سے غداری کے جھوٹے الزامات کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ صفورہ زرگر جامعہ کو آرڈینشن کمیٹی کی رکن ہیں اور اس وقت حاملہ ہیں، ان پر بھی دہلی تشدد کی اصل سازشی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سوشیل میڈیا پر ان کی نجی زندگی، ان کی شادی شدہ زندگی اور حمل کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جو قابل مذمت اور شائستگی کی تمام حدود کو پار کرنے والی حرکت ہے۔

فورم کی جہدکاروں نے کہا کہ وہ مختلف بنیادوں پر ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔ پہلے یہ کہ کورونا انفکشن کے خطرات کے درمیان لوگوں کو گرفتار کرتے ہوئے پُرہجوم جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ تمام جرائم جن کا ان پر الزام لگایا گیا ہے، سیاسی جرائم اورسازش ہیں جن سے کسی کی زندگی کو خطرہ نہیں ہوسکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان جہدکاروں کو وکلا تک رسائی اور ارکان خاندان سے ملاقات کا موقع نہ دینا غیر قانونی ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت جب کم عدالتیں کم گنجائش، کم باقاعدگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، حکومت کے لئے یہ غیر منصفانہ ہے کہ وہ یہ گرفتاریاں عمل میں لائے اور ان کو قانون کے ذرائع تک رسائی نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ جب ملک لاک ڈاون کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور کئی ملین غریب، نقل مکانی کرنے والے مزدور کووڈ-19 کی وبا کے سبب مشکلات سے دوچار ہیں، حکام اپنے وسائل کو سی اے اے مخالف احتجاج کرنے والوں پر صرف کر رہے ہیں تاکہ ان پُرامن شہریوں کو ستایا جائے اور ان کے خلاف جھوٹے معاملات درج کیے جائیں۔ ان جہدکاروں نے کہا کہ وہ ان تین خواتین کے عزم اورارادہ کو سلام کرتی ہیں اور ان کے ساتھ دلی تعاون و یگانگت کا اظہار کرتی ہیں۔ ان جہدکاروں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان تینوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام الزامات بشمول ڈراؤنی یو اے پی اے کے تحت عائد الزامات واپس لئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تمام بد نیتی پر مبنی حملوں، طلبہ، جہدکاروں اور تنظیموں کے ذمہ داروں کو حراست میں لینے کو فوری طور پر روکا جائے۔

فورم کی ذمہ داروں میں خالدہ پروین جہدکار، کنیز فاطمہ جہد کار، صبا قادری (ہیلپ حیدرآباد)، اسما رشید ماہر تعلیم، نور جہاں صدیقی جہدکار، نازیہ اخترریسرچ اسکالر، فرزانہ خان جہدکار، عائشہ فاروقی موظف پروفیسر، روبینہ نفیس صفا این جی او، آسیہ خان جہدکار، مرجان ریسرچ اسکالر، سنیتا اے ریسرچ اسکالر، شیرین بی ایس ماہر تعلیم، آسیہ شیروانی، منداکنی ماہر تعلیم، ساجدہ سلطانہ ماہرتعلیم، مقیتہ سماجی جہدکار، شرفیہ صدیقہ کونسلر، سعادت جہدکار، الفیہ ایڈوکیٹ، راحیل خان جہدکار اور صبا وہاب ایڈوکیٹ نے مشترکہ بیان جاری کیا۔

Published: 14 May 2020, 6:40 PM
next