شاہ فیصل پر لگے پی ایس اے میں تین  مہینے کی توسیع

شاہ فیصل کو 13/14 اگست 2019 کی نصف شب میں نئی دہلی سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ استنبول کی پرواز پر سوار ہونے کے لئے ہوائی اڈے کی طرف جا رہے تھے، انہیں تبھی سے نظر بند رکھا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: جموں و کشمیر انتظامیہ نے متنازعہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل کی نظر بندی کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ ایک افسر نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ واضح رہے کہ جموں کشمیر عوامی تحریک سربراہ شاہ فیصل کو 13/14 اگست 2019 کی نصف شب میں نئی دہلی سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ استنبول کی پرواز پر سوار ہونے کے لئے ہوائی اڈے کی طرف جا رہے تھے، انہیں تبھی سے نظر بند رکھا گیا ہے۔ ان پر رواں سال فروری میں پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا تھا۔

بدھ کے روز ان کی نظر بندی کی مدت ختم ہونے کے کچھ گھنٹوں پہلے ہی اس میں توسیع کر دی گئی۔ اس میں مزید ایک سال اور پھر 2 سال تک توسیع کی جا سکتی ہے۔ شاہ فیصل ایم ایل اے ہوسٹل میں نظر بند ہیں، جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ آئی اے ایس سے استعفیٰ دینے کے بعد جموں و کشمیر کے سابق افسر شاہ شاہ فیصل نے اپنی سیاسی پارٹی تشکیل دی تھی۔

واضح رہے کہ 5 اگست کے بعد جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے 177 سیاستدانوں کو نظر بند کیا گیا تھا اور ان میں سے ایک بی جے پی رہنما کو چھوڑ کر تمام دوسری جماعتوں سے تھے۔ جن لیڈران پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ان میں سے 71 نیشنل کانفرنس اور 35 پی ڈی پی سے تھے۔ جبکہ 19 لیڈران کا تعلق کانگریس پارٹی، 28 کا شاہ فیصل کی جموں و کشمیر عوامی تحریک پارٹی سے، 10 کا سجاد لون کی پیپلز کانفرنس اور 8 کا رشید انجینئر کی عوامی اتحاد پارٹی سے تھا۔

تاہم، گزشتہ 24 مارچ کو نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ سے پی ایس اے ہٹاتے ہوئے رہا کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے پی ایس اے کے تحت حراست میں رکھے گئے عمر کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ کو 13 مارچ کو رہا کر دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 May 2020, 3:40 PM