لداخ: ’ضلع انتظامیہ لیہ شاید بھول گئی کہ یہاں مسلمان بھی رہتے ہیں‘

انجمنوں کے عہدیداروں نے کہا کہ لداخ انتظامیہ کو ہمیشہ تمام تر تعاون فراہم کرنے کے باوجود ہمیں وقت ضرورت نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لیہ: انجمن امامیہ اور انجمن معین الاسلام لیہ کے عہدیداروں نے کہا کہ پہلے ماہ رمضان سے قبل ہی لوگوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے لئے انتظامات کیے جاتے تھے لیکن امسال ضلع انتظامیہ لیہ شاید بھول گئی ہے کہ یہاں مسلمان بھی رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لداخ انتظامیہ کو ہمیشہ تمام تر تعاون فراہم کرنے کے باوجود ہمیں وقت ضرورت نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

موصوف عہدیداروں نے یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 'ہم ہمیشہ تاحد طاقت انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو وبا پھیلی ہے اس کے چلتے بھی شروع سے ہی ہم نے ایک کمیونٹی کی حیثیت سے انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا، لیکن جب ہمیں کسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت ہمیں نظر انداز کیا جاتا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اعلیٰ حکام لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میں جو کام اور محنت کر رہے ہیں، وہ ضلع سطح پر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ موصوف عہدیداروں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ یہ بھی بھول گئی ہے کہ رمضان چل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ماہ رمضان چل رہا ہے اس سلسلے میں پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے انتظامات کیے جاتے تھے لیکن امسال ایسا لگ رہا ہے کہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہاں مسلمان بھی رہتے ہیں، ہمیں لوگوں کو اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کے لئے اپنے سطح پر کام کرنا پڑ رہا ہے'۔

لیہہ کی مسلم انجمنوں کے عہدیداروں نے حکومت سے ملک وبیرون ملک میں پھنسے لداخیوں کو عید سے قبل گھر لانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم یونین ٹریٹری انتظامیہ اور حکومت ہند کے مشکور ہیں کہ کافی تعداد میں لداخیوں کو وطن واپس لایا گیا لیکن اب جو کچھ رہ گئے ہیں انہیں اور بیرون ملک میں پھنسے لداخیوں کو عید سے قبل وطن واپس لایا جائے'۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ باہر رہ گئے ہیں ان کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔