یوکرین کے بعد روس فنلینڈ اور سویڈن پر حملے کی کر رہا تیاری، میزائلیں تعینات!

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اب فنلینڈ کو خوف ہے کہ اس کا بھی وہی حشر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف فنلینڈ کی حکومت بلکہ وہاں کے عوام بھی ناٹو میں شامل ہونے پر غور کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن / تصویر آئی اے این ایس
روسی صدر ولادیمیر پوتن / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ابھی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم بھی نہیں ہوا ہے، اور شمالی یوروپ میں حالات کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔ روس نے کچھ ایسی سرگرمیاں دکھائی ہیں جس نے فنلینڈ اور سویڈن کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے فنلینڈ اور سویڈین کی سرحد کے پاس میزائلیں اور دیگر خطرناک جنگلی اسلحے تعینات کر دیئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فنلینڈ اور سویڈن نے ناٹو میں شامل ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ فنلینڈ کی وزیر اعظم ثنا ماریہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ کچھ ہفتے میں یہ فیصلہ لے گا کہ کیا انھیں ناٹو میں شامل ہونا چاہیے، یا نہیں۔

دوسری طرف فنلینڈ اور سویڈن سے آ رہے ان اشاروں پر روس مشتعل ہو گیا ہے اور اس نے نہ صرف میزائلیں تعینات کر دی ہیں بلکہ دونوں ہی ممالک کو متنبہ بھی کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فنلینڈ اور سویڈن کے قدم سے روسی صدر ولادیمیر پوتن خوف میں ہیں۔ دراصل دونوں ہی ممالک روس سے بہت قریب ہیں۔ فنلینڈ کی تو سرحد بھی روس سے ملحق ہے۔ فنلینڈ طویل مدت سے غیر جانبدار ملک کے کردار میں رہا ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اب فنلینڈ کو خوف ہے کہ اس کا بھی وہی حشر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف فنلینڈ کی حکومت بلکہ وہاں کے عوام بھی ناٹو میں شامل ہونے پر غور کر رہی ہے۔ فنلینڈ کی وزیر اعظم نے 13 اپریل کو کہا کہ ’’ناٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دینے یا نہیں دینے سے متعلق الگ الگ نظریات ہیں، اور ہمیں اس کا بہت احتیاط کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریفرینڈم سروے میں فنلینڈ کے بیشتر عوام نے ناٹو میں شامل ہونے کی حمایت کی ہے۔


فنلینڈ کی وزیر اعظم ماریہ کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا ملک ناٹو کا پارٹنر ہے، لیکن رکن ہونے کا الگ مطلب ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ناٹو کا رکن ہوتے ہوئے ہم آرٹیکل 5 کے دائرے میں آ جائیں گے، جو اجتماعی سیکورٹی مہیا کرتا ہے۔ اسی کا مطالبہ یوکرین بھی کر رہا ہے۔ ماریہ نے کہا کہ ’’ناٹو نہ صرف ایک فوجی اتحاد ہے بلکہ ایک سیاسی اتحاد ہے۔ ناٹو ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ہماری سیکورٹی سے جڑے سبھی اہم فیصلے لیے جاتے ہیں۔ یہ یوروپ کے سیاسی اور حفاظتی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔‘‘ اس درمیان روس نے فنلینڈ کو سخت تنبیہ دی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ روس کی کوشش ہے کہ فنلینڈ کو کسی طرح سے ڈرا کر ناٹو کا رکن بننے سے روکا جائے۔

بہر حال، سویڈین کی وزیر اعظم کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ روس کا یوکرین پر حملہ نتیجہ خیز موقع ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیکورٹی کا پورا منظرنامہ ہی بدل گیا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر ششانک جوشی کہتے ہیں کہ ’’سویڈن اور فنلینڈ ناٹو کے لیے بڑی طاقت ثابت ہوں گے۔ یہ ایک دوسرے سے بہت زیادہ جڑے ہیں۔ یہی نہیں، یہ دونوں ہی ملک ناٹو کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔ فنلینڈ کے پاس دیگر طاقتوں کے علاوہ یوروپ میں سب سے بڑا توپخانہ فورس ہے۔ اگر یہ دونوں ملک ناٹو میں شامل ہوتے ہیں تو ناٹو کے لیے شمالی محاذ اور بالٹک سمندر میں دفاع آسان ہو جائے گا۔‘‘


یہی وجہ ہے کہ روس فنلینڈ اور سویڈین کے داؤ سے سہما ہوا ہے۔ روس نے بڑے پیمانے پر زبردست ہتھیاروں اور میزائلوں کو فنلینڈ کی سرحد کے پاس تعینات کر دیا ہے۔ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق روس نے ساحلی سیکورٹی سے جڑے دو دفاعی میزائل سسٹم کے-300 پی باستیون پی کو فنلینڈ جانے والے اپنے علاقے میں تعینات کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔