امیزن پر آر ایس ایس کا بیان نامناسب، لیکن رشوت کے الزامات کی جانچ ہو: کانگریس

کانگریس کا کہنا ہے کہ امیزن کے بارے میں آر ایس ایس جو کہہ رہا ہے وہ مناسب نہیں ہے، لیکن کمپنی کے خلاف رشوت کے الزامات کی جانچ ہونی چاہیے۔

کانگریس، تصویر یو این آئی
کانگریس، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ رکھنے والے رسالہ ’پانچ جنیہ‘ نے جیف بیجوس پر حملہ کرنے کے بعد امیزن کے خلاف ایک کور اسٹوری شائع کی، جس میں اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی دوسری نسل کہا۔ اس تعلق سے کانگریس کا رد عمل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امیزن کے بارے میں آر ایس ایس جو کہہ رہا ہے وہ نامناسب ہے، لیکن کمپنی کے خلاف رشوت کے الزامات کی جانچ ہونی چاہیے۔

کانگریس ترجمان پون کھیرا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’آر ایس ایس امیزن پر جو کہہ رہا ہے وہ نامناسب ہے، کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے درمیان جگل بندی چل رہی ہے۔ ہم نے ان کی جگل بندی دیکھی ہے، وہ کسان تحریک میں بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ہم نے کسان تحریک میں بی کے ایس (بھارتیہ کسان سَنگھ) کے ذریعہ نبھایا گیا مشتبہ کردار دیکھا ہے۔ وہ گزشتہ ایک سال میں کسانوں کی حمایت میں ایک دن کے لیے نہیں آئے، اس لیے کوئی بھی اب آر ایس ایس کو سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے۔ وہ قومی مفاد میں نہیں بلکہ بی جے پی کے مفادات میں بات کرتے ہیں۔‘‘


واضح رہے کہ کانگریس نے گزشتہ ہفتے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ای-کامرس کی مشہور کمپنی امیزن نے بدعنوانی کی شکل میں قانونی فیس کی ادائیگی کی اور پورے معاملے کی سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا تھا کہ ’’وزارت برائے قانون کا بجٹ 1100 کروڑ روپے کا ہے، لیکن ای-کامرس کمپنی نے دو سال میں قانونی ٹیکس کی شکل میں اسے 8546 کروڑ روپے کی ادائیگی کی۔‘‘

بہر حال، بیجوس کی تصویر کے ساتھ شائع کور اسٹوری میں آر ایس ایس کے رسالہ نے امیزن پر رشوت خوری کو فروغ دینے کا الزام لگانے کے بعد اب بدعنوان رویہ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ’پانچ جنیہ‘ نے امیزن پر پرائم ویڈیو فلموں اور مواد کے ذریعہ سے ہندو اقدار کی بے عزتی کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ ’پانچ جنیہ‘ اپنی کور اسٹوری میں کہتا ہے کہ ’’امیزن بھی ہندوستانی بازار پر بالادستی چاہتا ہے۔ اس کے لیے اس نے یہاں کے لوگوں کی سیاسی، معاشی اور نجی آزادی کو گھیرنے کے لیے قدم اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس پر ای-مارکیٹ پلیٹ فارم پر قبضہ کرنے کے لیے فرضی کمپنیاں کھولنے اور اپنے حق میں پالیسیاں بنانے کے لیے رشوت دینے کا الزام ہے۔ یہ پرائم ویڈیو کے ذریعہ سے ہندوستانی ثقافت کی مخالفت میں پروگراموں کا نشریہ کرتا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Sep 2021, 8:11 PM