مشکل میں آر ایس ایس سربراہ بھاگوت، ملک سے غداری کا معاملہ ہو سکتا ہے درج!

کئی تنظیمیں موہن بھاگوت کی تصویر والے ہندوستانی آئین پر مبنی کتابچہ سے ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسی سوچ سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جالندھر: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کی تصویر والا ایک نیا ہندوستانی آئین (کتابچہ) سوشل میڈیا پروائرل ہو رہا ہے۔ اس کتابچہ کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ساتھ ہی مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے ذریعہ مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

شرومنی اکالی دل کے جنرل سکریٹری جسکرن سنگھ، ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے ریاستی سینئر نائب صدر پرکاش چند جسل ، پنجاب کرسچن موومنٹ کے صدر حمید عیسیٰ ، بہوجن مکتی پارٹی کے نائب صدر رمیش کالا، دھن دھن شری گرو گرنتھ صحب ستکار پرچار سمیتی کے جتھہ دار جگدیو سنگھ نے پیر کو جالندھر میں ایک پولس کمشنر کو خط سونپ کر موہن بھاگوت کے خلاف غداری کا معاملہ درج کر کے گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

ناراض لوگوں کا کہنا ہے کہ موہن بھاگوت کی جانب سے دکھایا جا رہا کتابچہ ہندوستانی آئین کی توہین ہے۔ مذکورہ تنظیموں کے لیڈروں نے کہا ہے کہ ایسی سوچ کی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں آر ایس ایس کچھ دلت لوگوں کو گمراہ کررہی ہے اس لیے کارروائی ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Aug 2020, 11:29 PM