ریستوران اور سیلون چھوٹ کے دائرے میں نہیں: وزارت داخلہ

وزارت داخلہ کے حکم میں دیہی اور شہری علاقوں میں اکیلی دوکانوں، آس پاس کی دوکانوں اور رہائشی علاقوں میں واقع دوکانوں کو مشروط طور پر کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہل: مرکزی وزارت داخلہ نے کورونا وبا کی وجہ سے ملک بھر میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کی ہدایات میں دوکانوں کو کھولنے کے تعلق سے جمعہ کی شب دی گئی چھوٹ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریستوران، سیلون اور نائی کی دوکانیں اس کے دائرے میں نہیں آتیں گی اور انہیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ نے گزشتہ 15 اپریل کولاک ڈاؤن کے تعلق سے جاری ہدایات میں ترمیم کرکے سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو خط لکھ کر دیہی اور شہری غیر ہاٹ اسپاٹ والے علاقوں میں دوکانوں کو کچھ شرائط کے ساتھ کھولنے کا حکم دیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن اور بلدیات کی حدود میں آنے والی بازاروں، سنگل اور ملٹی برانڈ والے مال کو بھی اسی حکم کے دائرے میں رکھا گیا تھا۔ اس حکم میں دیہی اور شہری علاقوں میں اکیلی دوکانوں، آس پاس کی دوکانوں اور رہائشی علاقوں میں واقع دوکانوں کو مشروط طور پر کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔


بعد میں وزارت داخلہ نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سبھی ریستوران، سیلون اور نائی کی دوکان اس چھوٹ کے دائرے میں نہیں آتیں ہیں۔ وزارت نے واضح کیا کہ ریستوران اور سیلون خدمات مہیا کرنے کی فہرست میں آتے ہیں، اس لئے یہ دوکانیں نہیں ہیں اور انہیں کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس سے قبل وزارت داخلہ نے ایک دیگر وضاحت میں کہا تھا کہ ای کامرس کمپنیاں صرف ضروری اشیاء کی فراہمی کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ شراب اور دیگر مادوں کی فروخت پر پہلے سے نافذ پابندی ابھی بھی جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔