رام مندر اراضی گھوٹالہ: سادھو-سَنتوں نے بھی کھولا محاذ، جانچ کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ

اویمکتیشورانند سرسوتی کا کہنا ہے کہ ’’جنھوں نے گواہی دی ہے اور رجسٹری کرائی ہے انھیں فوراً معطل کرنا چاہیے۔ جب تک یہ بے قصور ثابت نہیں ہوتے تب تک ہر طرح کی ذمہ داری سے انھیں آزاد کیا جانا چاہیے۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

شری رام جنم بھومی چھیتر ٹرسٹ نے زمین خریداری میں ہوئے مبینہ گھوٹالہ کے تعلق سے اپنی صفائی مرکزی حکومت کے سامنے رکھ دی ہے، لیکن ہنگامہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹی کانگریس کے لیڈران پہلے سے ہی بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ آور ہیں اور اس پورے معاملے کی جانچ کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور اب سادھو-سَنتوں نے بھی محاذ کھول دیا ہے۔ ایودھیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سَنتوں کے ذریعہ ایک کمیٹی بنا کر اس پورے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

شاردا پیٹھ کے شنکراچاریہ جگت گرو سوروپانند سرسوتی کے جانشیں اور رامالیہ ٹرسٹ کے چیئرمین اویمکتیشورانند سرسوتی ایودھیا پہنچ گئے ہیں اور پریس کانفرنس کر براہ راست شری رام جنم بھومی چھیتر ٹرسٹ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’بھگوان شری رام کے نام پر ٹرسٹ بنایا گیا ہے اس لیے اس کا مقصد رام جی کے اصولوں کو قائم کرنا ہے۔ جو تنازعہ شروع ہوا ہے اس پر جلد از جلد غیر جانبدار لوگوں کی جانچ کمیٹی بنائی جائے تاکہ لوگوں کے سامنے سچ آ سکے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جب تک جانچ جاری رہے، اس وقت تک ملزمین کو ہر طرح کی ذمہ داروں سے آزاد کر دیا جائے۔


اویمکتیشورانند سرسوتی نے اس پورے معاملے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر دو کروڑ کی زمین کچھ ہی منٹوں میں آٹھ کروڑ کی کیسی ہو گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کوئی بند آنکھوں والا بھی دیکھے گا تو دو منٹ پہلے کوئی چیز دو کروڑ کی ہوتی ہے اور 8 منٹ بعد 8 کروڑ کی ہو جاتی ہے، یہ نہیں ہو سکتا، لیکن آپ نے کر کے دکھا دیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ سب بالکل درست ہے۔ آپ کو جانچ سے بھاگنا نہیں چاہیے۔‘‘

اویمکتیشورانند نے براہ راست ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انل مشرا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جنھوں نے گواہی دی ہے، جنھوں نے رجسٹری کرائی ہے ان دونوں کو فوراً معطل کر دینا چاہیے۔ جب تک یہ بے قصور ثابت نہیں ہوتے تب تک ہر طرح کی ذمہ داری سے انھیں آزاد کر دیا جانا چاہیے۔ بات نکلی ہے تو اب بہت دور تک جائے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔