’عقیدہ میں موقع‘ تلاش کرنا گناہِ عظیم، رام مندر اراضی گھوٹالہ کی جانچ ہو: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم نے کی تھی، ان کی ذمہ داری ہے کہ شری رام کے نام چڑھائی گئی پائی پائی کا استعمال عقیدہ سے جڑے اجتماعی کام میں ہو، نہ کہ کسی گھوٹالے میں۔‘‘

پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
user

تنویر

ایودھیا میں رام مندر تعمیر کا عمل زور و شور سے جاری ہے، لیکن اس درمیان زمین خریداری کو لے کر شروع ہوا تنازعہ دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ایک طرف شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ نے اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کرتے ہوئے زمین خریداری میں کسی بھی طرح کا گھوٹالہ ہونے سے انکار کیا ہے، اور دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بی جے پی کو کٹہرے میں کھڑا کر لگاتار پورے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ کی جانی چاہیے کیونکہ خبروں کے مطابق زمین خریداری میں 18.5 کروڑ روپے کا گھپلہ ہوا ہے۔

پرینکا گاندھی نے اس تعلق سے ایک فیس بک پوسٹ کیا ہے جس میں تفصیل کے ساتھ اپنی بات رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’2 کروڑ کی یہ زمین صرف پانچ منٹ کے بعد وزیر اعظم کے ذریعہ تشکیل شری رام مندر تعمیر ٹرسٹ کی جانب سے 18.5 کروڑ روپے میں خرید لی گئی۔ یعنی زمین کی قیمت 5.5 لاکھ روپے فی سیکنڈ کی شرح سے بڑھ گئی۔ کیا اس پر کوئی یقین کر سکتا ہے؟ مت بھولیے، یہ سارا پیسہ ہندوستانی عوام کے ذریعہ مندر تعمیر کے لیے عطیہ کی شکل میں دیا گیا تھا۔‘‘


پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے مزید لکھا ہے کہ ’’زمین کی خرید و فروخت سے متعلق بیع نامہ اور رجسٹری میں گواہوں کے نام یکساں ہیں۔ ایک گواہ مندر ٹرسٹ کے ٹرسٹی ہیں (جو آر ایس ایس کے سابق مقامی کاریہ واہک رہے ہیں) اور دوسرے گواہ بی جے پی لیڈر اور ایودھیا کے میئر ہیں۔‘‘ پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’شری رام مندر ٹرسٹ کے سکریٹری کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زمینوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اس لیے اتنی ادائیگی ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق سرکل ریٹ پر بھی اندازہ کریں تو اس علاقے کی اتنی زمین کی قیمت تقریباً 5 کروڑ روپے ہوگی۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری نے ملک کے کروڑوں لوگوں کے عقیدے اور بھکتی کے ساتھ کھلواڑ کیے جانے کا الزام بھی فیس بک پوسٹ میں لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’لوگوں نے بھگوان رام کو چڑھاوا دیا۔ ہماری کئی ساری بہنوں نے بھگوان رام اور ماتا سیتا کے تئیں عقیدت میں اپنی جمع پونجی کو ان کے قدموں میں ڈال دیا۔ بھگوان کے چڑھاوے میں کوئی بھی ہاتھ نہیں لگاتا، اس چڑھاوے میں لوگوں کی عقیدت، بھکتی اور اعتقاد شامل ہوتا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’شری رام مندر تعمیر ٹرسٹ کی تشکیل وزیر اعظم نے کی تھی۔ وزیر اعظم جی کے بہت قریبی لوگ اس میں ٹرسٹی ہیں۔ وزیر اعظم جی کی ذمہ داری ہے کہ بھگوان شری رام کے نام بھکتوں کے ذریعہ چڑھائی گئی پائی پائی کا استعمال عقیدہ سے جڑے اجتماعی کام میں ہو، نہ کہ کسی گھوٹالے میں۔‘‘


فیس بک پوسٹ کے آخر میں پرینکا گاندھی نے لکھا ہے کہ ’عقیدہ میں موقع‘ تلاش کرنے کی کوئی بھی کوشش کروڑوں ہندوستانی کے اعتقاد پر چوٹ ہے اور گناہِ عظیم ہے۔ ساتھ ہی کانگریس جنرل سکریٹری نے مطالبہ کیا کہ عزت مآب سپریم کورٹ کی ہدایت پر رام مندر ٹرسٹ کی تشکیل ہوئی ہے، اس لیے ملکی باشندوں کی طرف سے یہ گزارش ہے کہ سپریم کورٹ پورے گھوٹالے کی اپنی نگرانی میں جانچ کروائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔