پی اے سی میٹنگ میں ’ویکسین پالیسی‘ کو لے کر ہنگامہ!

ادھیر رنجن چودھری نے ویکسین پالیسی میں موجود خامیوں کا بارہا ذکر کیا، لیکن این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ ایجنڈے میں یہ شامل نہیں ہے اور اس پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

ادھیر رنجن چودھری، تصویر سوشل میڈیا
ادھیر رنجن چودھری، تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

آج پارلیمنٹ کی پی اے سی (پبلک اکاؤنٹس کمیٹی) میٹنگ میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب کمیٹی کے چیئرمین ادھیر رنجن چودھری نے مودی حکومت کی ویکسین پالیسی کا جائزہ لینے کی تجویز پیش کی۔ میٹنگ میں موجود این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری کے ذریعہ پیش کردہ تجویز کی سخت الفاظ میں مخالفت کی جس کی وجہ سے یہ پاس نہیں ہو سکا۔ حالانکہ ادھیر رنجن نے ویکسین پالیسی میں موجود خامیوں کا بارہا ذکر کیا، لیکن این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ ایجنڈے میں یہ شامل نہیں ہے اور اس پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق آج میٹنگ میں آئندہ ایک سال تک کمیٹی کے ذریعہ اٹھائے جانے والے ایشوز پر تبادلہ خیال ہونا تھا اور اس پر مہر لگنی تھی۔ کمیٹی کی میٹنگ میں شامل ایک رکن کے حوالہ سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے سے اراکین کو تقسیم کیے گئے ایجنڈے میں ویکسین پالیسی کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی پہلے سے طے ایجنڈا پر کمیٹی کی مہر لگی، کمیٹی کے چیئرمین ادھیر رنجن چودھری نے ویکسین پالیسی پر تجویز پیش کر دی۔


بتایا جاتا ہے کہ ادھیر رنجن کے ذریعہ تجویز پیش کرتے ہی میٹنگ میں موجود این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ نے پرزور مخالفت شروع کر دی۔ مخالفت کرنے والے اراکین پارلیمنٹ میں للن سنگھ، جگدمبیکا پال، رام کرپال یادو اور کچھ دیگر اراکین بھی شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ادھیر رنجن لگاتار حکومت کی ویکسین پالیسی کی خامیوں کا حوالہ دے کر اسے ایجنڈے میں شامل کرنے کی بات کہتے رہے اور ان کی حمایت میں میٹنگ میں موجود ایک کانگریس رکن پارلیمنٹ بھی لگاتار آواز اٹھا رہے تھے، لیکن این ڈی اے اراکین پارلیمنٹ نہیں مانے۔ انھوں نے اس تعلق سے ووٹنگ کروانے کی بات کہی لیکن ادھیر رنجن چودھری نے ایسا نہیں کیا کیونکہ حامیوں کی تعداد کم تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔