رام مندر اراضی گھوٹالہ: ذمہ داروں نے ایک بار نہیں، بار بار جھوٹ بولا... سنجے سنگھ

’’رام جنم بھومی ٹرسٹ، بی جے پی اور وی ایچ پی جس ایگریمنٹ کا بارہا ذکر کر رہے تھے وہ 18 مارچ کو رد ہو گیا تھا، اس میں روی موہن تیواری کا نام نہیں تھا، تو پھر بیع نامے میں اس کا نام کیوں شامل کیا گیا؟‘‘

تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل
تصویر بذریعہ شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹوئٹر ہینڈل
user

یو این آئی

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سینئر رہنما اور پارٹی کے اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رام مندر کے لیے 12080 مربع میٹر زمین 18.50 کروڑ روپے میں خریدی گئی جبکہ اس کے بازو میں 10370 مربع میٹر زمین محض آٹھ کروڑ روپے میں خریدی گئی۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ زمین کی خرید میں بدعنوانی کی گئی ہے۔ راجیہ سبھا رکن نے آج یہاں صحافیوں سے کہا کہ اگر آٹھ کروڑ میں 10370 مربع میٹر زمین خریدنے کی قیمت کو درست مان لیں تو بھی 18.50 کروڑ روپے میں تقریباً 26000 مربع میٹر زمین خریدی جا سکتی تھی جبکہ 18.5 کروڑ میں محض 12080 مربع میٹر زمین ہی خریدی گئی۔ رام جنم بھومی ٹرسٹ، بی جے پی اور وشو ہندو پریشد جس ایگریمنٹ کا بار بار ذکر کر رہے تھے، وہ 18 مارچ کو رد ہو گیا تھا، اس میں روی موہن تیواری کا نام نہیں تھا تو پھر بیع نامے میں اس کا نام کیوں شامل کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے میئر رشی کیش اپادھیائے اور روی موہن تیواری رشتہ دار ہیں۔ روی موہن تیواری میئر رشی کیش کے سمدھی کا سالا ہے۔ روی موہن تیواری کا نام ایگریمنٹ میں اسی لیے ڈالا گیا تاکہ ان کے کھاتے میں روپے ڈال کر کروڑوں روپے کی بندر بانٹ کی جا سکے۔

عآپ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی کے میئر رشی کیش اپادھیائے نے سات جون کو بھتیجے دیپ نارائن اپادھیائے کے نام پر مہیندر ناتھ مشرا سے 1.90 کروڑ روپے کی زمین خریدی۔ اس کی آمدنی کے ذرائع کی تفتیش ہونی چاہیے۔ سلطان انصاری اور روی موہن تیواری کے کھاتوں کی تفتیش ہونی چاہیے کہ ان کے کھاتوں میں جو 17 کروڑ گئے تو وہ کہاں گئے؟ سنجے سنگھ نے کہا کہ اترپردیش میں 50 لاکھ روپے سے زیادہ کی کوئی خرید اگر محکمہ رجسٹری میں ہوتی ہے تو محکمہ انکم ٹیکس کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے تو 18.50 کروڑ، آٹھ کروڑ اور دو کروڑ کی زمین خریدنے کے معاملے میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟


عآپ رہنما نے الزام عائد کیا کہ رام مندر اس لیے نہیں بن پا رہا ہے کیونکہ گھپلہ اور بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ بی جے پی اور رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگوں نے رام مندر کے لیے یکجا کیے گئے پیسے کھا لیے ہیں۔ غریبوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر رام مندر کے لیے چندہ دیا ہے۔ اس چندے کے ایک ایک روپے کا صحیح استعمال ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جگ گرو شکراچاریہ جی، سوامی سوروپانند جی، رام للا مندر کے کلیدی پجاری ستیندر داس، نِرموہی اکھاڑے، سوامی اومُکتیشوانند کا بیان آیا کہ وہ بھی اس بدعنوانی کے واقعہ سے رنجیدہ ہیں، کیا یہ سب پربھو شری رام کے خلاف ہیں؟

راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ چمپت رائے کا جھوٹ نمبر ایک، پہلے دن چمپت رائے نے کہا کہ’’میں اس معاملے کی اسٹڈی کروں گا جبکہ وہ تین مہینے سے سلطان انصاری سے مل رہے تھے اور زمین کا سودا کر رہے تھے۔ انھیں واقعہ کے بارے میں اطلاع دی۔ چمپت رائے کا جھوٹ نمبر دو، سلطان انصاری اور روی موہن تیواری کے ساتھ پرانا ایگریمنٹ تھا، وہ ہمارے لیے مانع تھا۔ اس لیے میں نے دو کروڑ روپے میں زمین خریدی، جسے ہم نے ان سے 18.50 کروڑ روپے میں خریدا۔‘‘


سنجے سنگھ نے کہا کہ ’’سچ یہ ہے کہ وہ ایگریمنٹ 18 مارچ کو ہی رد ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چمپت رائے کا جھوت نمبر تین، زمین کی قیمت مہنگی ہو گئی۔ بی جے پی، وشو ہندو پریشد، رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ آس پاس کی زمین کی قیمت معلوم کر لو جبکہ ان لوگوں کو پتہ تھا کہ بازو کی زمین کی قیمت آٹھ کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں آٹھ کروڑ روپے کی زمین کی قیمت بتاتا ہوں۔ یہ نقصان عدد 242، اس کا مطلب کہ بازو کی زمین ہے۔ اس کی قیمت فی مربع میٹر 4800 روپے ہے۔ رام جنم بھومی ٹرسٹ نے روی موہن تیواری اور سلطان انصاری سے جو زمین خریدی ہے‘ اس کی قیمت فی مربع میٹر 4800 روپے ہے، یعنی زمین بالکل آس پاس کی ہے۔ نقصان 243، 244، 246 کی زمین 18.50 کروڑ روپے میں خریدی جاتی ہے اور نقصان عدد 242 کی زمین آٹھ کروڑ روپے میں خریدی جاتی ہے۔ آٹھ کروڑ روپے میں 10370 مربع میٹر زمین خریدی گئی اور 18.50 کروڑ روپے میں 12080 مربع میٹر زمین خریدی گئی ہے۔ ایک زمین 12080 مربع میٹر اور دوسری زمین 10370 مربع میٹر ہے جبکہ ایک زمین کی قیمت ہے 18.50 کروڑ روپے اور دوسری زمین کی قیمت ہے آٹھ کروڑ روپے ہے۔ دونوں زمینوں میں 1700 مربع میٹر کا فرق ہے۔ یہ بدعنوانی نہیں تو کیا ہے۔

سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر آٹھ کروڑ روپے کی قیمت کو درست مان لیں جس میں 10370 مربع میٹر زمین خریدی گئی تو 18.50 کروڑ روپے لگایا۔ یہ حساب درجہ تین کے بچے کو سمجھ آ سکتا ہے جو چمپت رائے، بی جے پی، وشو ہندو پریشد کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں رام بھکتوں کی آستھا کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔ رام مندر تعمیر میں گھپلہ اور بدعنوانی ہوئی ہے۔ رام مندر اگر نہیں بن پا رہی ہے تو اس لیے کیونکہ اس کے نام پر گھپلہ اور بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ بی جے پی کے رہنما اور رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگوں نے مل کر رام مندر کا پیسہ کھا لیا ہے۔ بی جے پی کے رہنماؤں کو ملک اور دنیا کے کروڑوں ہندوؤں سے معافی مانگی چاہیے۔ یہ 16.50 کروڑ روپے ان لوگوں سے واپس لینا چاہیے کہ کیونکہ اس ملک کے کروڑوں لوگوں کی محنت کی کمائی کا پیسہ ہے اور ان مجرموں کو پکڑ کر جیل میں ڈالنا چاہیے۔


آج کے دستاویز سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایک نہیں بار بار جھوٹ بولا گیا۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ چمپت رائے کو معلوم تھا کہ بازو کی زمین کی قیمت آٹھ کروڑ ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا،’میں چمپت رائے سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اگر آپ کو اپنے پیسے سے زمین خریدنی ہوتی ہے تو آپ ٹھیک بازو کی زمین کو 18.50 کروڑ روپے میں خریدتے کیونکہ ملک کے کروڑوں افراد کی آستھا اور محنت کی کمائی کا پیسہ تھا۔ اس پیسے میں آپ کو بد عنوانی کرنی تھی لہٰذا ٹھیک بازو میں 10370 مربع میٹر آٹھ کروڑ میں خریدی جاتی ہے اور 12080 مربع میٹر 18.50 کروڑ روپے میں خریدی جاتی ہے۔ اس سے پوری طرح سے بد عنوانی واضح ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے لوگ خط لکھ ملک کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خط میں لکھ رہے ہیں کہ متذکرہ زمین کا پہلے بیچنے والوں سے ایگریمنٹ کیا تھا۔ یہ جھوٹا خط کیوں لکھ رہے ہیں، رام بھکتوں کو گمراہ کیوں کر رہے ہیں؟ رام مندر تیزی سے بننا چاہیے۔ غریبوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر پربھو شری رام کی مندر کے لیے چندہ دیا۔ اس چندے کے پیسے کا ایک ایک روپے کا درست استعمال ہونا چاہیے۔ اس ملک کے کروڑوں ہندوؤں سے بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور رام جنم بھومی ٹرسٹ کو ہاتھ جوڑ کر اس چوری کے لیے معافی مانگنی چاہیے۔


سنجے سنگھ نے آگے کہا کہ’میرے خاندان کے لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، میرے اوپر حملے کروائے جا رہے ہیں۔ میں کروڑوں رام بھکتوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ گمراہ مت ہونا۔ ان کی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ جگ گرو شنکراچاریہ جی، سوامی سوروپانند جی، رام للا مندر کے کلیدی پجاری ستیندر داس کا بیان آیا، سوامی اومُکتیشورنند کا بیان آیا کہ وہ بھی اس بدعنوانی سے تکلیف میں ہیں۔ انہوں نے تحریری شکایت دی، کیا وہ بھی پربھو شری رام کے خلاف ہیں۔ نرموہی اکھاڑے کا بیان آیا کہ ان کے اوپر تین سال پہلے 1400 کروڑ روپے کی بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا، کیا یہ سبھی پربھو شری رام کے خلاف ہیں۔ دوسروں پر الزام لگانا بند کرو۔ یہ 16.50 کروڑ روپے واپس کرو، جیل جاؤ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔