ممتا نے گورنر دھنکر کو ہٹانے کے لیے پی ایم مودی کو کئی بار خط لکھا، لیکن...

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ کسی کو بھی ریاست میں تشدد کی خبر نہیں مل رہی ہے، مگر انہیں (گورنر دھنکر) مل رہی ہے تو میں کیا کرسکتی ہوں۔

ممتا بنرجی / یو این آئی
ممتا بنرجی / یو این آئی
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر ایک طرف دہلی میں صدر جمہوریہ اور مرکزی وزیر داخلہ جگدیپ دھنکر سے ملاقات کررہے ہیں، دوسری طرف ممتا بنرجی نے ریاست میں امن وامان کی صورت حال پر گورنرکے تبصروں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیرا عظم مودی کو دو تین مرتبہ گورنر کو ہٹانے کو لے خط لکھ چکی ہیں مگر ان کے دفتر سے کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سے ہی ریاست میں تشدد کے واقعات سے متعلق گورنر کے بیانات پر پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’کیا آپ کو کچھ نظر آتا ہے؟ اگر کچھ بھی ہے تو، آپ اسے میرے سامنے لاسکتے ہیں۔ جب کسی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے گی، جب وہ آپ کی نظر میں نہیں ہے تو میں کیا کروں گی۔‘‘ تاہم وزیرا علیٰ نے کہا کہ میں کسی کا نام لئے بغیر یہ سب بول رہی ہوں۔


مغربی بنگال میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پر تبصرہ کرنے کے بعد گورنر دہلی کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ دہلی میں وہ مرکزی وزرا، حقوق انسانی کمیشن کے چیئرمین، صدر جمہوریہ اور مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کررہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے اس پر کچھ خاص توجہ دئیے بغیر کہا ہے کہ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا ہے مگر میں کیا کرسکتی ہوں۔میں کسی کا منھ نہیں بند کرا سکتی ہوں۔

وزیر اعلی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ جگدیپ دھنکر کو گورنر کے عہدے سے ہٹانا چاہتی ہیں؟ اس کے جواب میں ممتا بنرجی نے دعوی کیا کہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو دو سے تین مرتبہ گورنر کی برطرفی کےلئے خط لکھ چکی ہیں، لیکن جواب نہیں ملا ہے۔جب انہیں گورنر کے عہدہ پر مقرر کیا جارہا تھا اس وقت بھی مجھ سےپوچھا نہیں گیا تھا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاستی حکومت کے صلاح و مشورے کے بغیر بھی گورنر مقرر کرنے کا مرکز کو اختیارات ہیں، مگر ریاست کو آگاہ کرنا چاہیے۔


خیال رہے کہ جگدیپ دھنکر نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ہے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کر کے ریاست میں امن و امان کی صورت حال پر رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔ممتا بنرجی نے کہا کہ گورنر دہلی میں کس سے ملاقات کررہے ہیں یہ ان کاذاتی معاملہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بنگال کے دورے سے عین قبل گورنر نے ریاست کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگال میں جمہوریت کا دم گھٹ رہا ہے، سیاسی تشدد میں اضافہ ہورہا ہے اور ممتا بنرجی وزیر اعلی کی حیثیت سے خدمات انجام نہیں دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر نے ممتا بنرجی کو سخت خط بھی لکھا تھا۔ گورنر نے آج بھی مرکزی وزیر، لوک سبھا کے اسپیکر اور قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین سے ملاقات کے بعد صدر رام ناتھ کووند سے بھی ملاقات کی۔آج شام وہ وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کررہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کو یقین ہے کہ دھنکر کے اس دہلی دورے بنگال کی حکومت اور راج بھون کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہوجائیں گے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ کسی کو بھی ریاست میں تشدد کی خبر نہیں مل رہی ہے مگر انہیں مل رہی ہے تو میں کیا کرسکتی ہوں۔ ریاست میں مختلف مرکزی ایجنسیوں کے دورے پر وزیر اعلی نے بی جے پی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی کسی بھی ریاست میں جا سکتا ہے۔ لیکن انہیں اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش میں بدامنی نظر نہیں آتی ہے۔بنگال میں تشدد کے واقعات رونما نہیں ہورہے ہیں۔اکا دوکا واقعات جو خاندانی تنازعات کا نتیجہ ہے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ممتا بنرجی نے کہاکہ بی جے پی کے لوگ ہی بنگال میں تشدد پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔


ممتا بنرجی نے حال ہی میں بی جے پی پر بنگال کو تقسیم کرنے کی سازش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی بنگال کو مرکزی خطے میں تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ آج بھی بی جے پی کو للکارتے ہوئے ممتا نے کہا کہ جو کوئی بھی بنگال کو بانٹنے کی کوشش کرے گی ہم اس کا جواب دیں گے۔بنگال متحد ہے۔ ہم بنگال کی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ بی جے پی چین کے بارے میں بات کرےاس کا مقابلہ کرے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔