فحش ویڈیو معاملہ میں گہلوت نے اٹھایا سخت قدم، معطل ڈی ایس پی اور خاتون کانسٹیبل برخاست

ڈی ایس پی اور خاتون کانسٹیبل کو مبینہ فحش ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، الزام ہے کہ کانسٹیبل کے نابالغ بیٹے کی موجودگی میں یہ جنسی سرگرمیوں میں شامل نظر آئے تھے۔

اشوک گہلوت، تصویر آئی اے این ایس
اشوک گہلوت، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

راجستھان کی گہلوت حکومت نے فحش ویڈیو معاملہ میں معطل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور خاتون کانسٹیبل کو سروس سے برخاست کر دیا ہے۔ ان دونوں کو مبینہ طور پر ایک فحش ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا جس میں یہ کانسٹیبل کے نابالغ بیٹے کی موجودگی میں جنسی سرگرمیوں میں شامل نظر آئے تھے۔

ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایم ایل لاٹھیر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں کو سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی راجستھان سول سروس گائیڈ لائنس کے تحت کی گئی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس نے 8 ستمبر کو دونوں اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا تھا۔ خصوصی مہم گروپ (ایس او جی) کو جانچ سونپی گئی تھی جس میں راجستھان پولیس سروس افسر ہیرا لال سینی کے خلاف معاملہ درج کیا تھا اور 9 ستمبر کو انھیں گرفتار کر لیا تھا۔ خاتون کانسٹیبل کو 12 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔


پولیس کے مطابق ویڈیو کلپ 10 جولائی کو اجمیر ضلع واقع پشکر قصبہ کے ایک ریسورٹ میں کانسٹیبل کے موبائل فون کے ذریعہ بنائی گئی تھی۔ جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا تو سینی اجمیر میں زونل دفتر میں سرکل افسر کے عہدہ پر تعینات تھا، جب کہ خاتون کانسٹیبل جے پور میں تعینات تھی۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ویڈیو کا از خود نوٹس لیا اور سینی کو گرفتار کیا۔ جنسی جرائم سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق ایکٹ کے تحت ایس او جی کے سائبر کرائم اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا تھا۔ سینی اور کانسٹیبل کے علاوہ جے پور اور ناگور میں دو دیگر آر پی ایس افسران اور دو پولیس تھانوں کے ایس ایچ او کو بھی ڈیوٹی میں لاپروائی کے لیے معطل کر دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔