’وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے دھرنے میں شامل ہوں‘، راہل گاندھی کی ہر محب وطن ہندوستانی سے اپیل

راہل گاندھی نے طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جاری دھرنے میں عوام سے شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی این سی</p></div>
i

نئی دہلی: لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے قریب جاری کانگریس کے دھرنے میں عوام سے شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے اور اس معاملے میں حکومت جوابدہی سے نہیں بچ سکتی۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’طلبہ پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے۔ وزیراعظم مودی کو لگتا ہے کہ وہ بغیر جواب دیے اور بغیر کسی نتیجے کا سامنا کیے بچ نکلیں گے، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ ہر اس محب وطن ہندوستانی سے اپیل کرتے ہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ ملک کے طلبہ کو انصاف ملنا چاہیے، وہ وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے جاری دھرنے میں شریک ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق اس سنجیدہ معاملے پر جواب دینا ہوگا۔


کانگریس کی جانب سے منگل کو نئی دہلی میں طلبہ پر لاٹھی چارج اور پولیس کارروائی کے خلاف احتجاجی مارچ نکالا گیا، جس کے بعد راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی واڈرا، پون کھیڑا، کے سی وینوگوپال اور دیگر رہنما وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے اور متعدد کانگریسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق کے سریش، چرنجیت سنگھ چنی اور سکھجیندر سنگھ رندھاوا سمیت کئی ارکان پارلیمنٹ کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔

دوسری جانب احتجاجی مظاہرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ بھی موقع پر پہنچے اور انہوں نے راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق جتیندر سنگھ نے کانگریس رہنماؤں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی، جبکہ راہل گاندھی نے انہیں اپوزیشن کے مطالبات سے آگاہ کیا۔ اس ملاقات کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں طلبہ کے مسائل پر بحث نہ ہونے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے لوک سبھا اسپیکر سے طلبہ کے معاملے پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔


راہل گاندھی نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، جبکہ وزیراعظم نے اب تک ان سے معافی تک نہیں مانگی۔ ان کے مطابق ملک کے نوجوان تباہ حال تعلیمی اور امتحانی نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور حکومت کو فوری طور پر ان کے تحفظات دور کرنے چاہئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔