حراست میں لیے گئے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی رہا، پارلیمنٹ میں طلبہ کے معاملے کو دوبارہ اٹھانے کا اعلان
طلبہ پر پولیس کارروائی اور پیپر لیک کے معاملات پر کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔ پی ایم ہاؤس کے قریب دھرنے کے دوران راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو سمیت کئی سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، جنہیں بعد میں مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ اسی دوران سونیا گاندھی نے حراست میں لیے گئے رہنماؤں سے ملاقات کی، جبکہ رات گئے راہل اور پرینکا گاندھی کو رہا بھی کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ کے حقوق اور انصاف کی لڑائی پارلیمنٹ اور سڑک دونوں محاذوں پر جاری رہے گی

راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی رہا، پارلیمنٹ میں طلبہ کے معاملے کو دوبارہ اٹھانے کا اعلان
پی ایم ہاؤس کے قریب احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو دہلی پولیس نے رہا کر دیا ہے۔ رہائی کے بعد پرینکا گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے معاملے کو دوبارہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی راہل گاندھی مضبوط ہیں اور ہر مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ادھر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت چاہے جتنا زور لگا لے، طلبہ کے انصاف کی لڑائی نہ رکے گی اور نہ ہی جھکے گی۔
حراست میں لیے گئے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے لیے مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچی
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی حراست میں لیے گئے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے لیے نئی دہلی کے مندر مارگ پولیس اسٹیشن پہنچ گئیں۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ لوک کلیان مارگ پر پُرامن احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے رہنماؤں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سونیا گاندھی پولیس اسٹیشن پہنچی ہیں۔
کانگریس نے اپنے بیان میں کہا، ’’جمہوریت کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔‘‘پارٹی نے مزید کہا کہ جمہوری حقوق کے تحفظ اور عوام کی آواز بلند کرنے کے لیے کانگریس اپنے رہنماؤں اور اپوزیشن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ سونیا گاندھی کی پولیس اسٹیشن آمد کو اپوزیشن کے احتجاج کے لیے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی واضح حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حراست میں لیے گئے اپوزیشن رہنماؤں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا
کانگریس کی جانب سے جاری کردہ تازہ معلومات کے مطابق حراست میں لیے گئے اپوزیشن رہنماؤں کو مختلف مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پرینکا گاندھی واڈرا کو مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے، جبکہ راہل گاندھی کو چھترسال اسٹیڈیم منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اور اپوزیشن کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو کنگزوے کیمپ کے مقام پر لے جایا گیا ہے۔ کانگریس نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کے حق میں آواز بلند کرنے والے اپوزیشن رہنماؤں کو مختلف مقامات پر رکھ کر احتجاج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ پیپر لیک اور تعلیمی نظام سے متعلق مسائل نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے اور کانگریس طلبہ کے حق میں اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا احتجاج صرف ایک سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل اور انصاف کی لڑائی ہے، جسے ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔
ملکارجن کھڑگے کا حکومت پر شدید حملہ، کہا- ’تاناشاہ حکومت خوف سے کانپ رہی ہے‘
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پہلے تعلیمی نظام کو تباہ کیا، پیپر لیک کے متعدد واقعات رونما ہوئے، طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ کھڑگے کے مطابق پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے بحث کرانے کے مطالبے کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب کانگریس اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے پُرامن دھرنے پر بیٹھے تو انہیں گھسیٹ کر حراست میں لے لیا گیا۔ ملکارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو بھی زبردستی وہاں سے ہٹایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت طلبہ کے مسائل پر جواب دینے کے بجائے اپوزیشن کی آواز دبانے میں مصروف ہے اور یہی اس کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔
’مودی راج میں جمہوریت کی یہی تصویر ہے‘، کانگریس نے راہل گاندھی کی حراست کی تصاویر اور ویڈیو کیں جاری
کانگریس نے راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک تصویر میں متعدد پولیس اہلکار راہل گاندھی کو اٹھائے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جبکہ ان کے اطراف میں سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود ہیں۔ کانگریس نے اس تصویر کے ساتھ لکھا، "مودی کے دور میں جمہوریت کچھ ایسی دکھائی دیتی ہے۔"
ایک ویڈیو میں راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کے بعد میڈیا نمائندے ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا، "Democracy in India happening right now" (اس وقت ہندوستان میں جمہوریت کی حقیقت آپ کے سامنے ہے)۔
کانگریس کا الزام ہے کہ طلبہ کے حق میں آواز بلند کرنے پر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت جمہوری احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
مودی حکومت ہم سے ڈرتی ہے، پرینکا گاندھی اور کانگریس کا حکومت پر حملہ
راہل گاندھی کو حراست میں لیے جانے کے بعد کانگریس نے ان کی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے قائد حزب اختلاف اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کو زبردستی دھرنا گاہ سے ہٹایا ہے۔ ویڈیو میں راہل گاندھی پسینے میں شرابور نظر آ رہے ہیں۔ کانگریس نے کہا کہ "لاکھ کوششیں کر لو، ہمارا حوصلہ ٹوٹنے والا نہیں، دھرمندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔"
دوسری جانب پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ مودی حکومت خوف زدہ ہے اور وہ اپوزیشن سے ڈرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم ان سے نہیں ڈرتے، وہ ہم سے ڈرتے ہیں۔" کانگریس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو راہل گاندھی سے خوف لاحق ہے، اسی لیے اپوزیشن کے احتجاج کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تصاویر: راہل گاندھی سمیت کانگریس کے سینئر رہنماؤں کو حراست میں لیتی پولیس
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو حراست میں، کانگریس کا پولیس پر معلومات نہ دینے کا الزام
وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جاری احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے الزام لگایا ہے کہ پولیس یہ بتانے کو تیار نہیں کہ راہل گاندھی کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ ادھر کانگریس کے رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ یہ احتجاج کا اختتام نہیں بلکہ راہل گاندھی کی قیادت میں ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیپر لیک اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔
اکھلیش یاد کی بھی کانگریس کے دھرنے میں شرکت
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو بھی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جاری کانگریس کے احتجاجی دھرنے میں پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کو اپوزیشن اتحاد کی جانب سے طلبہ کے معاملے پر یکجہتی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اکھلیش یادو کی شمولیت کے بعد دھرنے کو مزید سیاسی اہمیت حاصل ہوگئی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی احتجاج میں شامل ہو سکتے ہیں۔
حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ معاملے پر بحث کے لیے تیار، جتیندر سنگھ کا دعویٰ
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد دعویٰ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں نیٹ اور طلبہ کی تحریک سے متعلق تمام معاملات پر بحث کرانے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق راہل گاندھی نے ابتدا میں صرف پارلیمانی بحث کی شرط پر دھرنا ختم کرنے کی بات کی تھی، لیکن حکومت کی آمادگی کے بعد انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ بھی شامل کر دیا۔ جتیندر سنگھ نے راہل گاندھی کے مؤقف میں تبدیلی کو جمہوری روایات کے منافی قرار دیا۔
کانگریس کا دھرنا رات بھر جاری رہنے کا امکان
وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جاری کانگریس کے دھرنے کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ یہ احتجاج رات بھر جاری رہ سکتا ہے، اور راہل گاندھی بھی دھرنے کے مقام پر موجود رہ سکتے ہیں، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ احتجاجی مقام سے متعدد ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جن میں کانگریسی رہنما اور کارکن حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
طلبہ پر پولیس کی بربریت کے خلاف احتجاج کی تصویری جھلکیاں
راہل گاندھی کی عوام سے دھرنے میں شامل ہونے کی اپیل
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے عوام سے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے سامنے جاری دھرنے میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے اور طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ راہل گاندھی کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی اس معاملے میں جوابدہی سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے انصاف کے حامی تمام شہریوں سے احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی ہے۔
کانگریس نے طلبہ کے معاملے پر حکومت کے سامنے کھے 5 مطالبات
کانگریس نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جاری دھرنے کے دوران اپنے پانچ اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ پارٹی نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے، مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیان دینے، اس معاملے پر تفصیلی بحث کرانے، طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے سنے جانے اور احتجاج کے دوران ہونے والے مبینہ تشدد کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔
جتیندر سنگھ احتجاجی مقام پر پہنچے، راہل اور کھڑگے سے بات چیت
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ اور مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن احتجاجی مقام پر پہنچے اور راہل گاندھی و ملکارجن کھڑگے سے بات چیت کی۔ اس دوران احتجاجی مظاہرین ’استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے مظاہرین کو پُرامن طریقے سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی گئی، تاہم کانگریس اپنے مطالبات پر قائم رہی۔
کانگریس نے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا
کانگریس نے اپنے سرکاری بیان میں وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور پولیس کارروائی کے ذمہ داروں کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ کانگریس نے اس واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے متعدد کانگریسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا
پولیس نے احتجاج کے دوران لوک کلیان مارگ پر موجود متعدد کانگریسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی سمیت کئی رہنماؤں نے پولیس کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت طلبہ اور اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور جمہوری احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکنا چاہتی ہے۔
راہل، پرینکا اور کھڑگے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنے پر بیٹھے
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور دیگر کانگریسی رہنما لوک کلیان مارگ کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے۔ رہنماؤں نے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے کہا کہ وہ نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہی ہے اور حکومت کو اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانی چاہیے۔
کانگریس کا وزیراعظم کی رہائش گاہ کی جانب مارچ، راہل اور پرینکا نے کی قیادت
کانگریس نے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا۔ مارچ کی قیادت راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے کی۔ اس مارچ میں کانگریس کے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور سینئر رہنما شریک ہوئے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔













































