احمد آباد میں بی جے پی پر خوب برسے راہل گاندھی، گجراتی عوام سے کیے 8 وعدے

راہل گاندھی نے گجرات میں تحریک کے لیے اجازت والے اصول سے متعلق بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا، انھوں نے کہا کہ جمہوریت پر حملہ، گجراتی عوام پر حملہ، کوئی کچھ نہیں بول سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پیر کے روز احمد آباد کے سابرمتی ریور فرنٹ پر کانگریس کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو پرزور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے سردار پٹیل کے بہانے پی ایم مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں پٹیل کی مورتی لگائی گئی، لیکن اسکول بند کر دیے گئے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پٹیل آج ہوتے تو وہ بھی ایسا نہیں چاہتے۔

دراصل راہل گاندھی احمد آباد میں کانگریس کے ’بوتھ جنگجوؤں‘ کے ’پریورتن سنکلپ‘ سمیلن نام سے منعقد جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران انھوں نے گجراتی عوام سے 10 لاکھ روپے تک کے علاج اور 300 یونٹ مفت بجلی سمیت 8 انتہائی اہم وعدے کیے، جو اس طرح ہیں:

  1. ہر گجراتی کو 10 لاکھ روپے تک کا علاج کرانے کی ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔

  2. کسانوں کے 3لاکھ روپے تک کے قرض معاف، کسانوں کی بجلی بل معاف کیے جائیں گے۔ عام صارفین کو 300 یونٹ بجلی مفت دی جائے گی۔

  3. نوجوانوں کے لیے 10 لاکھ ملازمتیں نکالی جائیں گی جس میں 50 فیصد ملازمتوں پر حق لڑکیوں کا ہوگا۔

  4. گجرات میں سرکاری ملازمتوں میں کانٹریکٹ سسٹم ختم کر دیں گے اور نوجوانوں کے لیے 3000 روپے کا بے روزگاری بھتہ دیا جائے گا۔

  5. گجرات کے دودھ کاروباریوں کو ایک لیٹر پر 5 روپے کی سبسیڈی دی جائے گی۔

  6. 3000 سرکاری انگلش میڈیم اسکول پورے گجرات میں کھولے جائیں گے۔

  7. 4 لاکھ روپے کا کووڈ کمپنسیشن، گجرات کے ان تین لاکھ کنبوں کو دیا جائے گا جنھوں نے اپنے لوگوں کو کووڈ میں گنوایا ہے۔

  8. بدعنوانی کے خلاف قانون لائیں گے اور گزشتہ 27 سالوں میں ہوئی بدعنوانی کی جانچ ہوگی اور قصورواروں کو جیل بھیجا جائے گا۔


راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران گجرات میں تحریک چلانے کے لیے اجازت والے قانون کو لے کر بھی بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ جمہوریت پر حملہ، گجرات کی عوام پر حملہ، کوئی کچھ نہیں بول سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے طنز کستے ہوئے کہا کہ گجرات ایسی ریاست ہےجہاں تحریک کے لیے اجازت لینی پڑتی ہے۔ انھوں نے گجرات حکومت پر چھوٹے کاروباریوں کو مدد نہیں کرنے کا بھی الزام لگایا۔ راہل نے کہا کہ چھوٹے کاروباریوں کو نوٹ بندی سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، بڑے بڑے صنعت کاروں کو ہی فائدہ ہوا۔ کسی بھی کاروباری سے پوچھیے تو بتائے گا کہ جی ایس ٹی سے صرف نقصان، نقصان، نقصان ہے۔

راہل گاندھی نے بی جے پی پر حملہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہو تو انہی صنعت کاروں سے اجازت لینی پڑے گی۔ کیا سردار پٹیل نے انگریزوں سے تحریک کے لیے اجازت لی تھی؟ کیا انگریزوں کے پاس جا کر کہا تھا کہ بھیا ہمیں تحریک کی اجازت دو؟ اگر آج سردار پٹیل ہوتے اور ان سے آپ کہتے کہ تحریک کے لیے حکومت کی اجازت لینی پڑے گی تو سردار پٹیل کہتے ’ایسی حکومت کو نکال باہر پھینکو۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ لڑائی کانگریس اور بی جے پی کے درمیان نہیں ہے۔ لڑائی کسی پارٹی سے نہیں ہے، اور یہ سمجھنا ہوگا کہ لڑائی آخر کس کے خلاف ہے۔


راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ادارے ’امپائر‘ کا کام کرتے ہیں۔ لیکن جن اداروں کی بنیاد سردار پٹیل نے رکھی، چاہے اسمبلی ہو یا پھر پولیس، یا پھر میڈیا، بی جے پی نے سبھی اداروں کو کیپچر کر لیا ہے۔ یہاں آپ ایک سیاسی پارٹی سے نہیں لڑ رہے ہو، یہاں آپ بی جے پی کے ان سبھی ادارے کے خلاف لڑ رہے ہو جنھیں بی جے پی نے کیپچر کر لیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔