راہل گاندھی کا بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتوں پر سخت حملہ، بدعنوانی کو عوامی تباہی کی جڑ قرار دیا
راہل گاندھی نے ایکس پر بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتوں کو بدعنوان، عوام دشمن اور وسائل کی لوٹ مار میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام عام ہندوستانیوں کے لیے ترقی نہیں بلکہ مسلسل تباہی بن چکا ہے

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی کی قیادت والی ڈبل انجن حکومتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں بدعنوانی، اقتدار کے غلط استعمال اور سیاسی تکبر نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاست میں بدعنوانی اوپر سے نیچے تک سرایت کر چکی ہے اور اس کا خمیازہ غریب، مزدور اور متوسط طبقہ بھگت رہا ہے۔
راہل گاندھی کے مطابق بی جے پی کے نظام میں غریب، لاچار، مزدور اور متوسط طبقہ محض ایک عدد بن کر رہ گیا ہے، جبکہ ترقی کے نام پر ایک منظم وصولی کا ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے ساتھ جڑا ہوا تکبر اور ادارہ جاتی بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عوامی مسائل پر سنجیدہ توجہ دینے کے بجائے نمائشی اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پورے ملک کو جھنجھوڑنے والا تھا، لیکن آج بھی بنیادی سوال وہی ہے کہ اقتدار کا تحفظ کس بااثر شخص کو بچا رہا ہے اور قانون سب کے لیے برابر کب ہوگا؟ اسی طرح انہوں نے اتر پردیش کے اناؤ معاملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سیاسی طاقت کے نشے میں مجرموں کو تحفظ فراہم کیا گیا اور متاثرہ کو انصاف کے لیے بھاری قیمت چکانی پڑی۔
راہل گاندھی نے مختلف ریاستوں میں آلودہ پانی سے ہونے والی اموات اور بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اندور میں زہریلا پانی پینے سے اموات ہوں یا گجرات، ہریانہ اور دہلی میں گندے پانی کی سپلائی کی شکایات، ہر طرف خوف اور غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ ان کے مطابق یہ سب محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ بدعنوانی کے براہ راست نتائج ہیں۔
انہوں نے راجستھان کی اراولی پہاڑیوں اور دیگر قدرتی وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں بڑے سرمایہ داروں کی لالچ پہنچی، وہاں قوانین کو پامال کیا گیا، پہاڑ کاٹے گئے اور جنگلات اجاڑے گئے، جبکہ عوام کو بدلے میں گرد، آلودگی اور آفات کا سامنا کرنا پڑا۔
راہل گاندھی نے سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی اموات، سرکاری اسکولوں کی خستہ عمارتوں، پلوں کے گرنے، سڑکوں کے دھنسنے اور ٹرین حادثات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر سانحے کے بعد حکومت کا ردعمل محض تصویری مواقع، بیانات اور رسمی معاوضے تک محدود رہتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مودی جی کا ڈبل انجن ماڈل صرف چند امیر طبقوں کے لیے چل رہا ہے، جبکہ عام ہندوستانی کے لیے یہ بدعنوانی کی رفتار سے بڑھتی ہوئی تباہی ثابت ہو رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔