’فرق سمجھو سر جی‘، ٹرمپ کے بیانات پر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو بنایا نشانہ، جے رام رمیش نے بھی اٹھایا سوال

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس اور اس کے لیڈران نے سپر پاورز کے سامنے کبھی سرینڈر نہیں کیا لیکن تھوڑے سے دباؤ کے سامنے جھک جانا ہی بی جے پی اور آر ایس ایس کی بنیادی کیفیت ہے

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق دیے گئے بیانات کے تناظر میں سخت لہجے میں طنز کیا ہے۔ بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر راہل گاندھی نے ایک مختصر مگر معنی خیز جملہ لکھتے ہوئے کہا- ’’فرق سمجھو سر جی۔‘‘ ان کا یہ تبصرہ ٹرمپ کی ان باتوں کے بعد سامنے آیا جن میں انہوں نے بھارت پر عائد کیے گئے پچاس فیصد ٹیرِف کے حوالے سے وزیر اعظم مودی کی ناراضی کا ذکر کیا تھا۔

راہل گاندھی نے اپنے بیان کے ساتھ گزشتہ برس جون میں کانگریس کے ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ سے متعلق ایک پروگرام میں دیے گئے اپنے خطاب کا ایک ویڈیو حصہ بھی شیئر کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم مودی ایک فون کال پر ٹرمپ کے سامنے جھک گئے تھے اور انہوں نے اس کیفیت کو ’نریندر، سرینڈر‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق کانگریس اور اس کے رہنماؤں نے کبھی عالمی طاقتوں کے سامنے خود سپردگی اختیار نہیں کی، جبکہ ان کے بقول معمولی دباؤ کے سامنے جھک جانا بی جے پی اور آر ایس ایس کی فطرت میں شامل ہے۔


اس معاملے پر کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بھی وزیر اعظم پر طنز کیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایکس پر سوال اٹھایا کہ ’’نمستے ٹرمپ سے لے کر ہاؤڈی مودی تک، ’ڈونالڈ بھائی‘ اور اب یہ—آگے کیا؟‘‘ جے رام رمیش کے اس تبصرے کو بھی حکمراں جماعت کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر ٹرمپ نے منگل کے روز ایک سیاسی اجتماع میں خطاب کے دوران کہا کہ روسی تیل کی خریداری کے سبب امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر لگائے گئے ٹیرِف کے باعث وزیر اعظم مودی ان سے ’زیادہ خوش نہیں‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی ان سے ملاقات کے لیے آئے اور اجازت طلب کی، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔ سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر بحث تیز ہو گئی ہے اور اپوزیشن اسے خارجہ پالیسی کے تناظر میں حکومت کی کمزوری قرار دے رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔