راہل گاندھی کا نیوز لیٹر: سماجی انصاف اور آئین کی حفاظت کے لیے لڑائی جاری، کامیاب معیشت کا ویزن لائق تحسین
کانگریس کے ذریعہ جاری تازہ نیوز لیٹر میں راہل گاندھی کی یاتراؤں کا ذکر موجود ہے، جس میں انھوں نے طلبا، آنگن واڑی کارکنان اور چھوٹے کاروباریوں سے لے کر ملک بھر کے الگ الگ گروپوں سے ملاقات کی۔

کانگریس کے ذریعہ دسمبر 2025 کا ’نیوز لیٹر‘ جاری کر دیا گیا ہے، جس کا لنک پارٹی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر بھی کیا ہے۔ ہندی اور انگریزی زبان میں جاری اس نیوز لیٹر میں 2025 کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے ذریعہ کی گئی یاتراؤں، ملاقاتوں اور پر یس کانفرنس وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی تصویر نیوز لیٹر کے صفحہ اول پر موجود ہے اور کچھ اہم جانکاریاں بھی کور پر دی گئی ہیں۔
نیوز لیٹر کے صفحہ اؤل پر لکھا گیا ہے ’’2025 ایک نظر میں، ہندوستان کے لیے جنگ‘‘۔ کچھ تصویروں کے ساتھ ڈاٹا کے ذریعہ جانکاری دی گئی ہے کہ راہل گاندھی نے گزشتہ سال 14 ریاستوں کا دورہ کیا، ’سنویدھان سمّان‘ سے متعلق 8 سمیلن کیے گئے، 59 عوامی خطابات ہوئے، پارلیمنٹ میں 7 تقاریر ہوئیں، 80 عوامی سماعتیں ہوئیں، 6 پریس کانفرنس کی گئیں، 27 جَن سنسد اور 36 آفیشیل پروگرام کے علاوہ 93 پارٹی پروگرام بھی کیے گئے۔ اس نیوز لیٹر میں راہل گاندھی کے ذریعہ پورے سال کی گئی محنت کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔
نیوز لیٹر کا صفحہ اول شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پیارے ساتھیو! نیوز لیٹر کے اس ایڈیشن میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے ذریعہ 2025 میں کی گئی یاتراؤں کو دیکھیں، جس میں انھوں نے طلبا، آنگن واڑی کارکنان اور چھوٹے کاروباریوں سے لے کر ملک بھر سے آئے الگ الگ گروپوں سے ملاقات اور بات کی۔‘‘ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’سماجی انصاف اور آئین کی حفاظت کے لیے راہل گاندھی کی لڑائی کے بارے میں پڑھیں اور یہ بھی جانیں کہ کس طرح انھوں نے ملک کے سامنے ’ووٹ چوری‘ کا پردہ فاش کیا۔‘‘
نیوز لیٹر میں کئی اہم باتیں موجود ہیں، جن میں سے ایک ہندوستان کو کامیاب معیشت بنانے سے متعلق راہل گاندھی کا نظریہ بھی ہے، جو لائق تحسین ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’ایک کامیاب معیشت بنانے کے بارے میں راہل جی کے ویزن کو بھی سنیں، جس میں انھوں نے نوجوانوں کو ملازت اور چھوٹے پروڈیوسرز کو مالی امداد دینے پر زور دیا ہے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں گزارش کی گئی ہے کہ ’’آپ سبھی وقت نکال کر اس نیوز لیٹر کو ضرور پڑھیں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔