کیرالہ انتخابات: راہل گاندھی نے کیا ’یو ڈی ایف‘ کی مہم کا آغاز، ایل ڈی ایف پر بی جے پی سے خفیہ گٹھ جوڑ کا الزام

راہل گاندھی نے کیرالہ میں یو ڈی ایف کی انتخابی مہم شروع کرتے ہوئے ایل ڈی ایف اور بی جے پی پر خفیہ اتحاد اور عوام کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا اور روزگار کے وعدوں کی عدم تکمیل پر بھی سخت تنقید کی

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کیرالہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کی انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں اصل مقابلہ یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف کے درمیان نہیں بلکہ یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف-بی جے پی کے ایک خفیہ گٹھ جوڑ کے درمیان ہے، جو عوام کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہا ہے۔

کوزیکوڈ میں ایک ریلی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ یو ڈی ایف عوام کو جوڑنے، ان کی بات سننے اور انہیں بااختیار بنانے کی سیاست کرتا ہے، جبکہ ایل ڈی ایف اور اس کے ’خفیہ ساتھی‘ عوام میں تفریق پیدا کرتے ہیں اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں جماعتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہونے میں یقین نہیں رکھتیں اور نہ ہی یہ چاہتی ہیں کہ عوام ان سے سوال کریں۔

راہل گاندھی نے روزگار کے مسئلے کو بھی اپنی تقریر کا مرکزی موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی سطح پر دو کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، جبکہ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے ریاست میں 40 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق نہ صرف روزگار فراہم نہیں کیا گیا بلکہ موجودہ روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ حکومتیں ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے محض وعدوں تک محدود رہ گئی ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یو ڈی ایف عوام کے سامنے ایک متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے جو حقیقی مسائل کو سمجھتا اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


راہل گاندھی اس موقع پر ذاتی وجوہات کی بنا پر ریلی میں شریک نہیں ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ اور کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی کی طبیعت خراب ہونے کے باعث انہیں نئی دہلی میں ان کے ساتھ رہنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیٹے کے طور پر ان کے لیے والدہ کی صحت اولین ترجیح تھی، تاہم انہیں یقین ہے کہ کیرالہ کے عوام ان کی مجبوری کو سمجھیں گے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں ایک جذباتی پہلو بھی شامل کیا اور کہا کہ رات بھر اپنی والدہ کی تیمارداری کے دوران انہیں ایک کیرالہ کی نرس کی خدمات نے حوصلہ دیا، جو ہر گھنٹے ان کی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے آتی رہی۔ انہوں نے اس تجربے کو کیرالہ کے عوام کی خدمت اور ہمدردی کی علامت قرار دیا۔

دوسری جانب کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی یو ڈی ایف کی انتخابی مہم کو تقویت دیتے ہوئے ریاست میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایل ڈی ایف حکومت کو سبریمالا مندر کے سونے کی چوری کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت اس معاملے میں عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے انتخابی وعدوں کا اعلان کرتے ہوئے خواتین کے لیے مفت بس سفر، طالبات کے لیے ماہانہ مالی امداد، فلاحی پنشن میں اضافہ، صحت بیمہ اسکیم کی توسیع اور نوجوانوں کے لیے بلاسود قرض جیسے اقدامات کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یو ڈی ایف اقتدار میں آ کر عوامی فلاح کو اولین ترجیح دے گا۔


واضح رہے کہ کیرالہ کی 140 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ موجودہ اسمبلی کی مدت 23 مئی کو مکمل ہو رہی ہے۔ کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف اس انتخاب میں ایل ڈی ایف حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے ریاست میں برسر اقتدار ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔