کیرالہ انتخابات: 1200 سے زائد امیدواروں کی نامزدگیاں، آخری دن کئی اہم لیڈروں نے پرچہ کیا داخل

اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد ستیشن نے کہا کہ سی پی آئی (ایم) اور بی جے پی کے درمیان مبینہ ’سمجھوتہ‘ صرف پلکڑ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دیگر انتخابی حلقوں میں بھی پھیلا ہوا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کیرالہ اسمبلی کی140سیٹوں کے لیے9  اپریل کو ہونے والے انتخابات کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے آخری روز تک 1,202 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ پیر کوشام 5 بجے تک تھی۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 1,202 امیدواروں کی طرف سے 2,039 کاغذات نامزدگی داخل کئے گئے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ منگل کو کی جائے گی۔ نامزدگی واپس لینے کا عمل 26 مارچ تک جاری رہے گا، جس کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کی جائے گی، جس کے بعد ہر حلقے میں انتخابی مقابلے کی واضح تصویر ہوگی۔

نامزدگیوں کے آخری دن کانگریس کے سینئر لیڈر وی ڈی ستیشن سمیت کئی سرکردہ لیڈران نے الیکشن کمیشن کے افسران کے سامنے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔ ستیشن نے دیگر سینئر لیڈروں کے ساتھ پروور میں ایڈیشنل تحصیلدار کے پاس دوپہر کے قریب اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد ستیشن نے کہا کہ سی پی آئی (ایم) اور بی جے پی کے درمیان مبینہ ’سمجھوتہ‘ صرف پلکڑ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ دیگر انتخابی حلقوں میں بھی پھیلا ہوا ہے۔


کیرالہ کے کئی حلقوں میں بڑے سیاسی محاذوں کو باغی امیدواروں کے میدان میں اترنے کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس سے احتیاط سے تیار کی گئی انتخابی حکمت عملیوں کے بگڑنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے ان باغی امیدواروں اور ان سے ملتے جلتے ناموں والے امیدواروں کو مقررہ تاریخ سے پہلے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے پر آمادہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان بات چیت کی کامیابی یا ناکامی سے انتخابی سمت اہم تبدیلیاں آنے کی امید ہے۔ خاص طور پر ان سیٹوں پر جہاں سخت مقابلہ ہے اور ووٹوں کے معمولی فرق بھی نتائج کو بدل سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں پردے کے پیچھے شدید بات چیت ہونے کا امکان ہے جس میں پارٹی قیادت انتخابی نقصان کو کم کرنے کے لیے نظم و ضبط اور ہم آہنگی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن منگل کو ریاست کی حتمی ووٹر لسٹ شائع کررہا ہے۔ اس بار کیرالہ میں تقریباً 2.72 کروڑ ووٹر اس اہم انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ انتخابی مہم میں صرف دو ہفتے رہ جانے کے بعد سیاسی جماعتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی حکمت عملیوں میں تیزی لائیں گے، ووٹروں تک پہنچنے اور ان کی حمایت کی بنیاد کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ امیدواروں کو حتمی شکل دینے کے ساتھ انتخابی مہم کا فیصلہ کن مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گا، کیونکہ کیرالہ ایک اہم انتخابی مقابلے کی طرف بڑھ رہا ہے جو اگلے 5 سالوں کے لیے اس کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔