پنجاب: زراعتی بل کی مخالفت کر رہے کسانوں پر درج کیس ہوں گے واپس، امریندر سنگھ کا اعلان

کانگریس کی جانب سے گورنر کو نئے زراعتی بل کے خلاف عرضداشت سونپنے کے بعد وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ کسان اس لیے نئے قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ یہ آرڈیننس ان کی فیملی کو برباد کر دے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے بدھ کو ریاست کے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے نئے زراعتی بل کو لے کر ریاست میں نہ تو ٹریفک جام کریں اور نہ ہی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کریں۔ حالانکہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسے لے کر ان کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ اپنی زندگی کے لیے لڑ رہے تھے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے کسانوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لی جائیں گی۔

پنجاب کانگریس کی طرف سے گورنر کو کسان مخالف نئے زراعتی بل کے خلاف عرضداشت سونپنے کے بعد وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ کسان اسی لیے نئے قوانین کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ یہ آرڈیننس ان کی فیملی کو برباد کر دے گا۔ ریاست کی حکومت اور کانگریس کسانوں کے ساتھ ہے۔ مرکز کے یہ بل پنجاب اور اس کے زراعتی سیکٹر کو برباد کر دیں گے، جو یہاں کی معیشت کی ریڑھ ہیں۔

گورنر سے ملاقات کے بعد امریندر سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری آرڈیننس پر قانون بنانے سے پنجاب میں بدامنی پیدا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ملک گیر بحران کے اس وقت میں اس قانون سے پنجاب کے کسانوں کے درمیان سماجی بدامنی گہرا سکتی ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ یہ علاقے کے امن اور ترقی کے لیے مناسب نہیں ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کسانوں سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ دہلی جا کر مرکزی حکومت کے سامنے اپنا احتجاجی مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی انھوں نے یقین دلایا کہ کانگریس ان کی لڑائی میں ان کے ساتھ ہے۔

اس سے قبل بدھ کو وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کانگریس نمائندہ وفد کی قیادت کرتے ہوئے گورنر بی پی سنگھ بدنور سے ملاقات کر اپنی بات رکھی اور ان سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔ گورنر سے ملنے والے نمائندہ وفد میں پنجاب کانگریس چیف سنیل جاکھڑ بھی موجود رہے۔ وزیر اعلیٰ نے گورنر کو عرضداشت سونپی اور انھیں بتایا کہ کانگریس نے محسوس کیا ہے کہ مرکزی حکومت کا قدم موجودہ خرید نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گورنر سے ملنے کا یہ فیصلہ تب لیا گیا جب پیر کو مودی حکومت نے تینوں زراعتی آرڈیننس کو بل کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کر دیا۔ پیر کو ہی کیپٹن امریندر سنگھ نے وزیر اعظم مودی سے اس سمت میں آگے نہ بڑھنے کی اپیل کی تھی۔ کیپٹن امریندر نے ان آرڈیننس کو 'کسان مخالف آرڈیننس' بتایا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کسانوں کے لیے ایم ایس پی کو ضرور قرار دیا ہے۔ کانگریس نے ایوان کے اندر اور باہر زراعتی سیکٹر سے جڑے بلوں کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کھیتی کسانی کو پونجی پتیوں کے حوالے کر کسانوں اور منڈیوں کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ رہی ہے۔

next