نوجوان اپنا حق مانگنے کے لئے سڑک پر اتر چکا ہے: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے کہا، ’’واہ رہی سرکار! پہلے تو نوکری نہیں دوگے۔ جس کو ملے گی اس کو 30-35 سال عمر سے پہلے نہیں ملے گی اور پھر اس پر 5 سال بے عزتی والی کنٹریکٹ کی بندھوا مزدوری (جبری مشقت)!‘‘

پرینکا گاندھی
پرینکا گاندھی
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سرکاری ملازمتوں پر نوجوانوں کو مستقل کرنے سے پہلے جبری کنٹریٹ پر رکھے جانے پر حکومت کو ہدف تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اب سمجھ چکا ہے، اپنا حق مانگنے کے لئے وہ سڑکوں پر اتر چکا ہے۔ پرینکا گاندھی نے گزشتہ روز بھی اس معاملہ پر حکومت پر نشانہ لگایا تھا۔

اپنے تازہ ٹوئٹ میں پرینکا گاندھی نے کہا، ’’واہ رہی سرکار! پہلے تو نوکری نہیں دوگے۔ جس کو ملے گی اس کو 30-35 سال سے پہلے نہیں ملے گی۔ پھر اس پر 5 سال بے عزتی والی کنٹریکٹ کی بندھوا مزدوری (جبری مشقت)!‘‘ انہوں نے مزید لکھا، ’’اور اب کئی مقامات پر 50 سال پر ہی ریٹائر کرنے کا منصوبہ۔ نوجوان اب سمجھ چکا ہے۔ اپنا حق مانگنے کے لئے وہ سڑکوں پر اتر چکا ہے۔‘‘

اپنے ٹوئٹ کے ساتھ پرینکا گاندھی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں نوجوان سڑکوں پر اتر کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی راشٹریہ بے روزگار دیوس (قومی یوم بے روزگار ہیش ٹیگ کا بھی استعمال کیا ہے۔

اپنے گزشتہ روز کے ٹوئٹ میں پرینکا گاندھی نے کہا تھا، ’’کنٹریکٹ، نوکریوں سے عزت کے ساتھ وداع۔ 5 سال کا کنٹریٹ- یوا اپمان قانون (نوجوان کی بے عزتی کا قانون)۔ عزت مآب عدالت عظمیٰ نے پہلے بھی اس طرح کے قانون پر اپنا تیکھا تبصرہ کیا ہے۔ اس نظام کو لانے کا مقصد کیا ہے؟ حکومت نوجوانوں کے زخم پر مرہم نہ لگا کر مزید درد بڑھانے کا منصوبہ لا رہی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اتر پردیش حکومت نے گروپ بی اور سی کی بھرتی کے عمل میں بڑی تبدیلی کی تیاری کی ہے اور منصوبہ بنایا ہے کہ سرکاری نوکری اب کنٹریکٹ ملازمت سے شروع ہوگی۔ پانچ سال کے سخت کنٹریٹ کے عمل میں جو ملازمین چھٹنی سے بچ پائیں گے انہیں سہی مستقل کیا جائے گا۔

پرینکا گاندھی شروع سے ہی اس مجوزہ نظام کی مخالفت کرتی چلی آ رہی ہیں۔ اپنے ایک سابق ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا، ’’نوجوان نوکری کا مطالبہ کرتے ہیں اور یو پی حکومت بھرتیوں کو 5 سال کے لئے کنٹریکٹ پر رکھنے کا منصوبہ بناتی ہے۔ زخموں پر نمک پاشی کر کے نوجوانوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں بھی یہی سسٹم ہے۔ برسوں سے سیلری نہیں بڑھتی، پرماننٹ نہیں کرتے، نوجوانوں کی عزت نفس نہیں چھیننے دیں گے۔

Published: 16 Sep 2020, 12:11 PM
next