ایران کے 180 شہروں میں مظاہرے، درجنوں لوگوں کی موت کا دعویٰ، انٹرنیٹ پر پابندی اور پروازیں منسوخ ہونے کی خبر
ملک کے مختلف حصوں میں جاری مظاہروں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے انہیں گھمنڈی بتایا اور کہا کہ ان کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔

ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کالز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں گزشتہ ماہ شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 62 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ درایں اثنا جمعہ کے روز ایران کے سرکاری میڈیا نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تشدد بھڑکانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے دہشت گرد ایجنٹوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
دوسری طرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں گھمنڈی بتایا اور الزام لگایا کہ ان کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایران میں 28 دسمبر 2025 کو تہران کے دو بازاروں میں شروع ہونے والے مظاہرے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور ریال کی گرتی ہوئی قدر کے خلاف ملک گیر احتجاج تحریک میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی زیر قیادت ایران کی اسلامی حکومت کے خلاف عدم اطمینان بڑھ رہا ہے وہیں ملک کی اقتداراعلیًٰ نے احتجاج کو ایران کی جمہوریت اور آزادی سے تعبیرکیا ہے۔
ایران میں کئی روز سے جاری مظاہروں کے دوران غیر ملکی میڈیا کے مطابق 50 سے زائد مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا کی طرف سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ وہیں امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ملک گیرمظاہروں میں 65 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ یہ مظاہرے 10 جنوری کو اپنے 14 ویں روز میں داخل ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرے 31 صوبوں کے 180 شہروں میں 512 مقامات پر پھیل گئے ہیں۔
ملک کی وزارت انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی نے کہا کہ انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ ملک کی موجودہ صورتحال کے مدنظر مجاز سیکیورٹی افسران کی جانب سے کیا گیا ہے۔ دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم 17 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ایران میں جاری دھرنے اور مظاہروں کے ردعمل میں ترکش ایئرلائنز نے بھی ایران کے اوپر کئی پروازیں منسوخ کر دیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔